پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ملک بھر میں کل ہونے والے احتجاج کو مؤخر کر دیا۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کی نئی تاریخ کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پی ٹی آئی حکومت کو ایک اور موقع دے رہی ہے مگر آئینی ترمیم کے معاملے میں ظلم اور جبر کی مخالفت جاری رہے گی۔
سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ پی ٹی آئی قاضی کی ایکسٹینشن کے لیے آئینی ترمیم کی مخالفت کرے گی اور عوام کو اس کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کرک اور لاہور میں جلسوں کا بھی اعلان کیا۔
راجہ نے مزید کہا کہ اگر جیل ان کا مقدر ہے، تو وہ جیل کے لیے بھی تیار ہیں، لیکن ان کا عزم ہے کہ وہ آگے بڑھیں گے اور اپنی منزل پائیں گے۔ عمران خان کے ساتھ طویل ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے، راجہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے قوم کو پیغام دیا ہے کہ ملک میں اس وقت کوئی قانون نہیں۔
عمران خان نے الزام عائد کیا کہ ریاست آئینی ترمیم کے سلسلے میں دباؤ ڈالنے کے لیے لوگوں کی بیٹیوں کو اغواء کر رہی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ مستقبل اب عوام کے ہاتھ میں ہے اور موجودہ حکمران جعلی طریقے سے اقتدار پر قابض ہیں۔سلمان اکرم راجہ نے یہ بھی بتایا کہ پی ٹی آئی نے پارٹی رہنماؤں کی حالیہ گرفتاریوں کے خلاف ملک گیر احتجاج کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ فیصلہ پشاور میں پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور دیگر مرکزی قائدین نے شرکت کی۔
اجلاس میں طے پایا کہ احتجاجی مظاہرے جمعے سے شروع کیے جائیں گے اور اسمبلی کے فلور پر بھی پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاریوں کی مذمت کی جائے گی۔

