خیبر پختونخوا کے وزیر مینا خان آفریدی نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال میں 50 ہزار طلبہ کو 5 لاکھ روپے تک بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں گے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ نگراں دور حکومت میں یونیورسٹیوں کے لیے صرف 0.9 ملین روپے مختص کیے گئے تھے، تاہم موجودہ حکومت نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے کے لیے بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا ہے،حکومت نے اعلیٰ تعلیم کا بجٹ بڑھا کر 50 ارب روپے تک پہنچایا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ آئندہ مالی سال کے دوران 20 ہزار نئے طلبہ کو 25 ہزار روپے ماہانہ اعزازیہ پر انٹرن شپ فراہم کی جائے گی، تاکہ نوجوانوں کو عملی میدان میں بہتر مواقع میسر آ سکیں۔
صوبائی وزیر نے گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو جبری رخصت پر بھیجنے کے معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ جعلی ڈگریوں کے معاملے پر نہیں بلکہ یونیورسٹی میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کے بعد کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ جب معاملہ اسمبلی میں اٹھایا گیا تو وائس چانسلر کو انکوائری کے لیے جبری رخصت پر بھیجا گیا بعد ازاں جعلی ڈگریوں کا معاملہ بھی سامنے آیا، تاہم اصل وجہ فائرنگ کا واقعہ تھا۔