یورپ میں قیامت خیز گرمی، معمول سے ایک ہزار سے زائد اموات ریکارڈ

یورپ میں قیامت خیز گرمی، معمول سے ایک ہزار سے زائد اموات ریکارڈ

یورپ کے مختلف ممالک میں شدید گرمی کی لہر کے باعث21 جون سے اب تک1300 سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ مختلف علاقوں میں درجہ حرارت چالیس ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا ہے جس کے باعث صحت کے نظام اور ریسکیو اداروں پر شدید دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔

ہسپتالوں اور ایمرجنسی نظام پر دباؤ

شدید گرمی کے باعث ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جبکہ ایمرجنسی کالز میں بھی نمایاں اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق گرمی کی شدت نے شہری زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا انتباہ

عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس نے کہا ہے کہ یورپ میں گھروں، دفاتر اور تعلیمی اداروں کو اس نوعیت کی شدید گرمی کے لیے تیار نہیں کیا گیا، جس کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔

فرانس میں صورتحال

پبلک ہیلتھ فرانس کے مطابق صرف فرانس میں بدھ کے بعد سے اموات میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے اور متوقع تعداد کے مقابلے میں تقریباً 1000اضافی اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔

جرمنی میں نظامِ زندگی متاثر

جرمنی کے مشرقی شہر لیپزگ میں شدید گرمی کے باعث ٹرام سروس متاثر ہوئی ہے اور کئی مقامات پر ٹرام لائنز اور جوائنٹس کو نقصان پہنچنے کے بعد نظامِ ٹرانسپورٹ جزوی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔

بنیادی ڈھانچے کو نقصان

میڈا رپورٹس کے مطابق شدید درجہ حرارت کے باعث سڑکوں کا اسفالٹ پگھلنے لگا ہے جبکہ ریلوے ٹریکس اور دیگر انفراسٹرکچر بھی متاثر ہوا ہے، جس کے باعث ٹرانسپورٹ نظام کو عارضی طور پر غیر محفوظ قرار دیا گیا ہے۔

editor

Related Articles