اے آئی چیٹ بوٹس پر اندھا اعتماد خطرناک ، ماہرین کی سخت وارننگ

اے آئی چیٹ بوٹس پر اندھا اعتماد خطرناک ، ماہرین کی سخت وارننگ

نیویارک سے سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹس کو خاص طور پر حساس نوعیت کے معاملات میں مکمل طور پر قابلِ اعتماد نہیں سمجھنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں :’اے آئی سیکھو 2026 ‘کا آغاز، نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سکھانے کا بڑا قدم

قانونی ماہرین کے مطابق طبی، قانونی اور مالی معاملات میں چیٹ بوٹس سے مشورہ لینا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ معلومات اس سطح کی رازداری اور تحفظ فراہم نہیں کرتیں جو روایتی طور پر وکیل اور مؤکل کے درمیان ہوتی ہے۔

امریکا میں وکلا نے اپنے مؤکلین کو واضح ہدایات جاری کرنا شروع کر دی ہیں کہ وہ اے آئی چیٹ بوٹس کو “رازدار” نہ سمجھیں اور نہ ہی ان کے ساتھ ذاتی یا حساس معلومات شیئر کریں۔

یہ بھی پڑھیں :ٹیکنالوجی کی دنیا میں نیا انقلاب، چیٹ جی پی ٹی مزید طاقتور، نئے ماڈل نے دُنیا کو حیرت زدہ کردیا

یہ خدشات اس وقت مزید بڑھ گئے جب نیویارک کی ایک وفاقی عدالت نے ایک کیس میں قرار دیا کہ ایک دیوالیہ مالیاتی کمپنی کے سابق سی ای او کی چیٹ جی پی ٹی گفتگو کو استغاثہ سے خفیہ نہیں رکھا جا سکتا۔ اس شخص پر سیکیورٹیز فراڈ کے سنگین الزامات عائد ہیں۔

عدالتی فیصلے کے بعد ماہرین قانون نے واضح کیا ہے کہ اے آئی چیٹ بوٹس کے ساتھ ہونے والی گفتگو بھی قانونی مقدمات میں بطور ثبوت پیش کی جا سکتی ہے، جس سے صارفین کی پرائیویسی متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق روایتی وکیل اور مؤکل کے درمیان گفتگو قانونی طور پر محفوظ سمجھی جاتی ہے، لیکن اے آئی پلیٹ فارمز اس قانونی تحفظ کے دائرے میں شامل نہیں ہیں۔

اسی تناظر میں امریکا کی کئی بڑی لا فرمز نے اپنے مؤکلین کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنی ذاتی، مالی اور قانونی نوعیت کی معلومات چیٹ بوٹس کے ساتھ شیئر کرنے سے گریز کریں

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *