چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد کی دوبارہ تعیناتی اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج

چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد کی دوبارہ تعیناتی اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج

چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد کی دوبارہ تعنیاتی کے حوالے سے دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیر اعظم کو بذریعہ پرنسپل سیکرٹری جواب طلبی کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔

چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد کی دوبارہ تعیناتی کو اسلام آباد میں چیلنج کیا گیا ہے اور درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاق کو بذریعہ وزارت تعلیم اور ڈاکٹر مختار کو بھی نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے فریقین سے یکم اکتوبر تک جواب طلب کر لیا ہے اوراسلامیہ کالج پشاور کے ایسوسی ایٹ پروفیسر کی درخواست پر سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کیا گیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے 7 اگست کے نوٹیفکیشن میں چیئرمین ایچ ای سی کی دوبارہ تعیناتی کو چیلنج کیا گیا اورایچ ای سی آرڈی نینس سیکشن سکس فائیو کے تحت ڈاکٹر مختار کو ایک سال کے لیے دوبارہ چیئرمین تعینات کیا گیا۔

مزید پڑھیں: پنجاب پولیس کا کرمنلز سے نمٹنے کےلئے ڈرون ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا فیصلہ

درخواست گزار کے وکیل کے مطابق چیئرمین ایچ ای سی کو دوبارہ اسی عہدے پر تعینات نہیں کیا جا سکتا ہے اوردرخواست کیمطابق اس وقت تک دوبارہ تعیناتی نہیں ہو سکتی جب تک وہ مسابقتی عمل میں حصہ لے کر اپنی اہلیت نہ ثابت کریں۔وکیل کیمطابق چیئرمین ایچ ای سی کے عہدے پر تعیناتی کے لیے اخبار اشتہار جاری ہوا مگر پھر پراسیس بغیر وجہ کے روک دیا گیا۔ درخواست گزار کیمطابق پراسیس روکنے کے بعد ڈاکٹر مختار کی دوبارہ تعیناتی کا نوٹیفکیشن آ گیا جو قانون کے مطابق درست نہیں ہے۔ عدالت نے فریقین سے پیرا وائز کمنٹس طلب کرتے ہوئے سماعت یکم اکتوبر تک ملتوی کر دی ہے۔

editor

Related Articles