پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے مابین فاصلے کم ہونا شروع اور دونوں جماعتوں کے مابین مختلف ایشوز کے حوالے سے معاملات طے پا گئے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے مابین معاملات طے پا رہے ہیں اور اس حوالے سے نائب امیر جماعت اسلامی نے مستقبل کے ممکنہ لائحہ عمل بارے آزاد ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت مختلف معاملات پر اب جماعت اسلامی کیساتھ بھی چلنے کو تیار ہے۔ ذرائع کے مطابق تحریک انصاف نےجمعیت علماء اسلام کے بعد جماعت اسلامی کو بھی ساتھ ملانے کا فیصلہ کیا ہے اور پی ٹی آئی قیادت مختلف معاملات پر اب جماعت اسلامی کیساتھ بھی چلنے کو تیار ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آج جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کی اہم ملاقات طے ہے جس میں نہ صرف جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت شرکت کرینگی بلکہ پی ٹی آئی قائدین بھی شریک ہونگی۔ آج پی ٹی آئی کے ساتھ ملاقات کے بارے میں نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے آزاد ڈیجیٹل کے نمائندے کو پشاور میں منعقدہ ایک تقریب میں بتایا کہ جماعت اسلامی نے آج سے قومی قیادت سے ملاقاتوں کا فیصلہ کیا ہے اور اسی سلسلے میں آج پی ٹی آئی کے سینٹرل لیڈرشپ کے ساتھ اہم ملاقات طے ہے۔
مزید پڑھیں: یہ آئینی ترمیم کے ذریعے دوسرے معنوں میں مارشل لا لگا رہے تھے : مولانا فضل الرحمٰن
لیاقت بلوچ نے آزاد ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملاقات کی قیادت امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کرینگے جبکہ ان کے ہمراہ پارٹی کے دیگر قائدین بھی شریک ہونگے۔ نائب امیر نے بتایا کہ ملک میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام بڑھتی جارہی ہے کیونکہ پارلیمنٹ اور اسمبلیاں ایک بے کار ادارے بن کر رہ گیا ہے۔لیاقت بلوچ کے مطابق کوئی آئین کی بالادستی کے لیے تیار نہیں ہے اور نہ ہی سیاسی قیادت ماضی کی غلطیوں سے سبق لیکر قومی سیاسی ڈائیلاگ کا راستہ اختیار کر رہی ہے۔پی ٹی آئی ہے بعد دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین اور لیڈرشپ سے بھی ملاقاتیں کی جائے گی تاکہ غزا اور کشمیر کے مسئلے سمیت ملک کی موجودہ سیاسی و سماجی صورتحال پر گفتگو کی جائے۔اس وقت یہ بات ضروری ہے کہ سیاسی جماعتوں کے سامنے یہ بات رکھی جائے کہ کیسے ہم ملک کو بحرانوں سے نکال سکتے ہے۔لیاقت بلوچ نے بدامنی اور معاشی صورتحال کے سوال پر بتانا تھا کہ اگر معملات کو آئین اور قانون کے مطابق نہیں سنبھالا جائے گا اور جو با اختیار طبقہ قوم کی خون پسینے کے پیسے کو ہڑپ کرنے سے باز نہیں آئے گے تو حالات مزید خراب ہونگے۔
مزید پڑھیں: پنجاب حکومت نے بجلی چوری میں ملوث عناصر کی سرکوبی کے لیے موثر لائحہ عمل تشکیل دیدیا
اگر ملک میں غربت ہے تو یہ غربت تقسیم ہونی چاہئے ایسا نہیں ہونا چاہے کہ مٹھی بھر طبقہ عیاشی کریں اور پاکستان کی اکثریت مسائل اور مشکلات سے دو چار ہوں۔لیاقت بلوچ کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام طے پایا گیا ہے یہ کوئی نیا پروگرام نہیں ہے پہلے بھی پروگرام ہوئے ہے لیکن ملک بحرانوں سے نہیں نکل سکا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ کرپشن،بدانتظامی اور سود کی لانت ہے۔ایک خاص طبقہ قومی وسائل پر عیاشی کر رہا ہے ان لوگوں سے نجات ملے گی تو پاکستان مستحکم ہو جائے گا۔ آئی پی پیز کے خاتمے کے علاؤہ پاکستان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے ،آئی پی پیز ایک ظلم اور اندھا کنواں ہے۔ یہ قومی معیشت کے لئے تباہی کا باعث بن رہا ہے۔جماعت اسلامی نے آئی پی پیز کی نشاہدہی کی ہے جس پر حکومتی وزراء نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس پر کام کر رہے ہیں۔

