وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حالیہ ایران جنگ کے دوران پاکستان نے جو کردار ادا کیا وہ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ پاکستان نے خطے میں امن کے قیام کے لیے مثبت اور ذمہ دارانہ سفارتی کردار ادا کیا جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کامیاب ہوئیں اور پاکستان پوری امت مسلمہ کے سامنے سرخرو ہوا۔
سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ یومِ عاشور ایسے وقت میں آیا ہے جب خطے میں جنگ کی صورتحال نے پوری مسلم دنیا کو تشویش میں مبتلا رکھا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے اس مشکل دور میں حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی قربانیوں، صبر اور استقامت کی یاد تازہ کر دی ہے جو امت مسلمہ کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کیں۔ حالیہ بحران کے دوران پاکستان نے سفارتی سطح پر متحرک کردار ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کی کوششوں میں اپنا حصہ ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اس کردار کو تاریخ میں ہمیشہ مثبت انداز میں یاد رکھا جائے گا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور مذاکرات کی حمایت کی ہے اور موجودہ صورتحال میں بھی یہی مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خواہش ہے کہ تمام تنازعات کا حل بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے نکالا جائے تاکہ خطے کے عوام مزید تباہی اور بدامنی سے محفوظ رہ سکیں۔
انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ لبنان بھی اسرائیلی ظلم و ستم سے نجات حاصل کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں جہاں مسلمان ظلم و جبر کا شکار ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں آزادی، امن اور استحکام نصیب فرمائے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ امت مسلمہ کو موجودہ حالات میں اتحاد، یکجہتی اور باہمی تعاون کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق مسلم ممالک کو اختلافات کے بجائے مشترکہ مفادات کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو اور مستقبل میں ایسے تنازعات سے بچا جا سکے۔