ال نینو کی واپسی بحرالکاہل گرم ہونے لگا، خطرناک موسمیاتی تبدیلی کا آغاز؟

ال نینو کی واپسی بحرالکاہل گرم ہونے لگا، خطرناک موسمیاتی تبدیلی کا آغاز؟

موسمیاتی تبدیلیوں پر نظر رکھنے والے سائنسدانوں کے مطابق ال نینو  ایک بار پھر سرگرم ہو گیا ہے، جس کے عالمی موسم پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جس میں خطِ استوا کے قریب بحرالکاہل کے کچھ حصوں میں سمندری پانی کا درجہ حرارت معمول سے زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ جون 2026 میں سیٹلائٹ مشاہدات سے ظاہر ہوا کہ یہ موسمیاتی رجحان مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :گوگل نے 6 سال بعد نیا اسمارٹ اسپیکر متعارف کرا دیا

امریکی ادارہ نوآ نے 11 جون کو ال نینو کی تصدیق کی، جب وسطی اور مشرقی خطِ استوا بحرالکاہل میں سمندری سطح کا درجہ حرارت کئی ماہ تک اوسط سے کم از کم 0.5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔

سائنسدانوں کے مطابق ال نینو دنیا بھر کے موسم کو متاثر کر سکتا ہے۔ عام طور پر یہ امریکا کے جنوب مغربی علاقوں میں زیادہ بارشوں کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ مغربی بحرالکاہل کے ممالک، جیسے انڈونیشیا اور آسٹریلیا میں خشک سالی کے امکانات بڑھا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :گوگل جیمنائی نے خاتون کو کروڑ پتی بنا دیا

ناسا کے سائنسدانوں نے ال نینو کی ایک اہم علامت سمندر کی سطح کی اونچائی میں تبدیلیوں کی صورت میں بھی دیکھی ہے۔ جب سمندری پانی گرم ہوتا ہے تو وہ پھیلتا ہے، جس سے سمندر کی سطح بلند ہو جاتی ہے۔

ناسا اور یورپی خلائی ادارے (ESA) کے تعاون سے 2020 میں خلا میں بھیجے گئے سینٹینل 6 مائیکل فریلیچ سیٹلائٹ نے 8 جون 2026 کو بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصوں میں سمندری سطح کی اونچائی میں غیر معمولی تبدیلیاں ریکارڈ کیں۔

یہ بھی پڑھیں :آئندہ 12 گھنٹے موسم کیسا رہے گا؟ محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کردیا

مشاہدات کے مطابق سرخ رنگ والے علاقے ان مقامات کو ظاہر کرتے ہیں جہاں سمندر کی سطح معمول سے زیادہ بلند تھی، جبکہ نیلے علاقے کم سطح کی نشاندہی کرتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندر کی سطح کی اونچائی صرف اوپر کے پانی کے درجہ حرارت کی نہیں بلکہ سمندر کے اندر جمع ہونے والی حرارت کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔

2026 کے آغاز میں سائنسدانوں نے گرم پانی کی بڑی لہروں کو مغربی بحرالکاہل سے مشرقی بحرالکاہل کی جانب بڑھتے دیکھا تھا۔ ان لہروں کو کیل ون لہریں  کہا جاتا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب مغربی خطِ استوا بحرالکاہل میں چلنے والی تجارتی ہوائیں کمزور پڑتی ہیں یا رخ تبدیل کر لیتی ہیں، جس کے باعث گرم پانی مشرق کی جانب جمع ہونے لگتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :26 ہزار نوری سال دورناسا کی نئی دریافت نے سائنسدانوں کا تجسس بڑھا دیا

سینٹینل 6 منصوبے سے وابستہ سمندری سطح کے ماہرین کے مطابق 8 جون 2026 کی صورتحال مغربی بحرالکاہل میں 1997 کے حالات سے ملتی جلتی نظر آئی، جب ایک انتہائی طاقتور ال نینو سامنے آیا تھا۔

تاہم 2026 میں مشرقی بحرالکاہل میں گرم حالات کی رفتار 1997 کے مقابلے میں کچھ سست رہی ہے، کیونکہ اس وقت تک کیل ون لہروں کی تعداد کم رہی۔ماہرین کے مطابق مزید گرم لہریں مشرقی بحرالکاہل کی طرف بڑھ رہی ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ال نینو مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں سمندری سرگرمیوں کے مشاہدات سے ہی واضح ہوگا کہ یہ ال نینو 1997 کے ریکارڈ ساز واقعے جتنا طاقتور ثابت ہوگا یا نہیں۔ تاہم موجودہ صورتحال سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ ایک بڑا موسمیاتی واقعہ بن سکتا ہے۔

editor

Related Articles