26ویں آئینی ترمیم میں پی ٹی آئی کے منحرف ارکان قومی اسمبلی اجلاس میں پہنچ گئے۔
تفصیلات کے مطابق 26ویں آئینی ترمیم کے لیے قومی اسمبلی میں منعقد ہونے والے اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کی حمایت میں منتخب ہونے والے پانچ آزاد ارکان خصوصی بنچوں پر موجود ہیں ۔
ان ارکان میں چوہدری الیاس ، عثمان علی ، مبارک زیب ، ظہور قریشی اور اورنگزیب کھچی شامل ہیں۔ یہ پانچوں ارکان پی ٹی آئی کی حمایت سےانتخابات میں کامیاب ہوئےتھے۔ دوسری جانب حکومتی لابی میں ریاض فتیانہ ، زین قریشی ، مقداد حسین اوراسلم گھمن موجود تھے ۔
واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم کیلئےحکومتی اتحاد کو 224 ووٹ درکار ہیں جبکہ حکومتی اتحاد 211 ارکان پر مشتمل ہے۔ حکومتی بنچزپر قومی اسمبلی میں ن لیگ111 ، پیپلزپارٹی کی 69 نشستیں ہیں، حکومتی بنچزپر متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) 22 ، مسلم لیگ ق 5، آئی پی پی کے 4 اراکین ہیں ، مسلم لیگ ضیاء، بی این پی اور نیشنل پارٹی 1،1 رکن ہے۔
حکمران اتحاد کے 3 افراد کیخلاف ریفرنس دائر ہے، اس طرح یہ تعداد 211 بنتی ہے اور جے یو آئی کے 8 اراکین کی حمایت کے ساتھ یہ تعداد 219 ہوگی اور حکومت کو آئینی ترمیم پاس کروانے کیلئے مزید 5 ارکان کی ضرورت ہوگی۔ اپوزیشن نشستوں پر سنی اتحاد کونسل کے 80 ،پی ٹی آئی حمایت یافتہ 8 آزاد ارکان، بلوچستان نیشنل پارٹی، مجلس وحدت المسلمین اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا 1،1رکن ہے۔
حکومت کو آئینی ترمیم منظور کرانے کیلئے ان میں سے 2 ووٹ کی ضرورت ہو گی۔ قبل ازیں ملکی ایوان بالا(سینیٹ) نے دوتہائی اکثریت سے 26 ویں آئینی ترمیم منظورکرلی ہے اور اب یہ ترامیم قومی اسمبلی میں پیش کی جائیں گی۔ سینیٹ میں آئینی ترامیم کے حق میں حکومت کے 58 ،جمعیت علمائے اسلام(جے یو آئی) کے 5 اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے 2 ووٹ آئے۔

