اسپتالوں میں ہیلتھ کارڈ سے متعلق بڑا فیصلہ

اسپتالوں میں ہیلتھ کارڈ سے متعلق بڑا فیصلہ

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ’بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام‘ کو صوبے کے عوام کے لیے ایک انقلابی قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کو مفت اور معیاری علاج کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے ایک اہم پالیسی بیان میں واضح کیا کہ شہریوں کی آسانی کے لیے اب کسی الگ کارڈ کی ضرورت نہیں بلکہ ہر شہری کا ‘قومی شناختی کارڈ’ ہی اس کا ‘ہیلتھ کارڈ’ تصور کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم ہیلتھ کارڈ پروگرام میں شامل ہونے کا آسان طریقہ سامنے آگیا

اس پروگرام کا دائرہ کار صرف بلوچستان تک محدود نہیں بلکہ ملک بھر کے بڑے نجی ہسپتالوں کے نیٹ ورک کو بھی اس میں شامل کر لیا گیا ہے تاکہ صوبے کے عوام کراچی، لاہور یا اسلام آباد کے بڑے ہسپتالوں سے بھی مفت علاج کرا سکیں۔

علاج و معالجہ کے حیران کن اعداد و شمار

وزیراعلیٰ نے پروگرام کی کارکردگی رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک 3 لاکھ 45 ہزار مریضوں کو مفت علاج فراہم کیا جا چکا ہے۔ ان میں جان لیوا امراض کے علاج کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔

ان کے مطابق 69,000 ڈائیلاسز سیشنز، 44,000 سے زیادہ کیموتھراپی اور 1,200 سے زیادہ ریڈیوتھراپی سیشنز مکمل کیے گئے۔  دل کے مریضوں کے لیے 7,784 اینجیوپلاسٹی اور 575 بائی پاس سرجریز کی گئیں۔ بچوں کے دل کے پیدائشی سوراخ اور دیگر 304 پیچیدہ کیسز کا مفت علاج کیا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق 3,412 نیورو سرجریز، 12,300 آرتھوپیڈک (ہڈیوں) کی سرجریز اور 183 برنز و پلاسٹک سرجری کے کیسز نمٹائے گئے۔ ماں اور بچے کی صحت: اس شعبے میں 55,000 سے زائد کیسز ہینڈل کیے گئے، جن میں 24,688 نارمل ڈیلیوریز اور 20,344 سی سیکشنز (بڑے آپریشن) شامل ہیں۔

وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت صحت کے شعبے میں مزید اصلاحات لا رہی ہے تاکہ دور دراز علاقوں کے غریب عوام کو علاج کے لیے دربدر نہ ہونا پڑے۔

بلوچستان میں صحت کے چیلنجز اور ہیلتھ کارڈ کی ضرورت

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جہاں آبادی بکھری ہوئی ہے اور بنیادی صحت کے مراکز (بی ایچ یو) تک رسائی ایک بڑا چیلنج رہی ہے۔ صوبے میں معیاری اسپتالوں اور ماہر ڈاکٹروں کی کمی کی وجہ سے مریضوں کو اکثر علاج کے لیے سندھ یا پنجاب کا رخ کرنا پڑتا تھا، جس کے اخراجات غریب طبقے کی پہنچ سے باہر تھے۔

بلوچستان میں غربت کی شرح زیادہ ہونے کے باعث کینسر، دل اور گردوں کے امراض کا علاج ایک خواب بن کر رہ گیا تھا۔ بین الاقوامی معیار کے مطابق ’یونیورسل ہیلتھ کوریج‘ کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہیلتھ کارڈ پروگرام شروع کیا گیا تاکہ امیر اور غریب کے درمیان علاج کا فرق ختم کیا جا سکے۔ شناختی کارڈ کو ہی ہیلتھ کارڈ قرار دینا بیوروکریٹک رکاوٹوں کو ختم کرنے کی ایک کڑی ہے۔

Related Articles