امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچے تو واشنگٹن آبنائے ہرمز میں اپنی فوجی پوزیشن میں زبردست اضافہ کر دے گا۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دھمکی دی کہ روکے ہوئے ’پروجیکٹ فریڈم‘ آپریشن کو نہ صرف دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے بلکہ اسے ’پروجیکٹ فریڈم پلس‘ کے نام سے وسعت بھی دی جائے گی۔
’پروجیکٹ فریڈم پلس‘ اور پاکستانی ثالثی کا کردار
ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو امریکا ایک مختلف اور زیادہ سخت راستہ اختیار کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان، جو اس وقت واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، نے امریکا سے فوجی کارروائی دوبارہ شروع نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’اگر کچھ نہ ہوا تو ہم پروجیکٹ فریڈم پلس پر واپس جا سکتے ہیں، جس میں پروجیکٹ فریڈم کے ساتھ دیگر (خفیہ) اقدامات بھی شامل ہوں گے‘۔
28 فروری کے حملے اور پاکستانی ثالثی
علاقائی کشیدگی کا آغاز 28 فروری 2026 کو ہوا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملے کیے، جس کے جواب میں تہران نے خلیج میں امریکی اتحادیوں کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز بند کر دی۔
صورتحال کو سنبھالنے کے لیے پاکستان نے مداخلت کی اور 8 اپریل 2026 کو ایک عارضی جنگ بندی نافذ ہوئی۔ اگرچہ 13 اپریل سے امریکا نے ایرانی سمندری ٹریفک کی ناکہ بندی جاری رکھی ہوئی ہے۔
تاہم صدر ٹرمپ نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ تجارتی جہاز رانی کی بحالی کے لیے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کو عارضی طور پر روکا جا رہا ہے، لیکن حالیہ بیان نے ایک بار پھر جنگ کے بادل منڈلانے پر مجبور کر دیے ہیں۔
’پلس‘ کی اصطلاح اور نفسیاتی دباؤ
صدر ٹرمپ کے اس بیان اور ’پروجیکٹ فریڈم پلس‘ کا تجزیہ کیا جائے تو ٹرمپ کی جانب سے ’پلس‘ کی اصطلاح کا استعمال ایران پر نفسیاتی دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے تاکہ وہ اسلام آباد میں جاری مذاکرات میں امریکی شرائط تسلیم کر لے۔
صدر ٹرمپ کا یہ اعتراف کہ پاکستان نے انہیں فوجی کارروائی سے روکا ہے، عالمی سطح پر پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت اور ’ملٹری ڈپلومیسی‘ کی کامیابی کا ثبوت ہے۔
ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ فوجی کارروائی رکنے کے باوجود امریکی بحری ناکہ بندی ’مکمل شدت‘ کے ساتھ برقرار رہے گی، جس کا مقصد ایران کی معیشت کو مفلوج رکھنا ہے۔
آبنائے ہرمز میں دوبارہ فوجی کشیدگی سے تیل کی عالمی قیمتیں 150 ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں، جس کا براہِ راست اثر عالمی معیشت پر پڑے گا۔