پہلگام سے بنیان مرصوص تک: 2025 کے چار دن کا وہ ’معرکہ‘ جس نے دُنیا کی عسکری، سفارتی تاریخ بدل دی

پہلگام سے بنیان مرصوص تک: 2025 کے چار دن کا وہ ’معرکہ‘ جس نے دُنیا کی عسکری، سفارتی تاریخ بدل دی

مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی مختصر ترین جنگ آج جنوبی ایشیا کی تاریخ کے اہم اور خطرناک ترین واقعات میں شمار کی جانے لگی ہے جہاں 2025 کے ان 4 دنوں نے دُنیا کی عسکری، سفارتی اور ٹیکنالوجی کی تاریخ بدل کر رکھ دی۔

بھارت کے زیر تسلط جموں کشمیر کے علاقے پہلگام میں غرور و تکبر میں گری بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے رچائے گئے ’فالس فلیگ‘ کے چند ہی دنوں میں میزائل حملوں، فضائی جھڑپوں، ڈرون جنگ، الیکٹرانک وارفیئر، میڈیا بیانیے اور سفارتی سرگرمیوں پر مشتمل ایک مکمل جنگی صورتحال میں بدل گیا۔

بھارت نے اس فالس فلیگ کو بنیاد بنا کر پاکستان کے خلاف ’آپریشن سندور‘ کے نام سے فوجی جارحیت کی جرات کی جسے پاکستانی افواج نے اللہ کی نصرت کے ساتھ ’بنیان مرصوص‘ (سیسہ پلائی) دیوار بن کر 3 گھنٹوں میں ہی خاک میں ملا دیا۔

4 روز تک جاری رہنے والے اس ’معرکے‘ نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی، جبکہ پاکستان نے اس پورے مرحلے کو ’بنیان مرصوص‘ اور’معرکۂ حق‘ کا نام دیا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے اللہ کے نازل کردہ قرآن سے لیا گیا یہ نام پاکستان کے قومی بیانیے کی علامت بن گیا۔

کشمیر تنازع اور کشیدگی کا پس منظر

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کا تنازع 1947 سے جاری ہے اور یہی مسئلہ دونوں ممالک کے تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران دونوں ممالک متعدد جنگیں لڑ چکے ہیں جبکہ لائن آف کنٹرول پر وقفے وقفے سے جھڑپیں معمول رہی ہیں۔

اگست 2019 میں بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی تھی۔ پاکستان نے اس اقدام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی سطح پر بھرپور احتجاج کیا۔ 2025 کے آغاز تک دونوں ممالک کے درمیان تعلقات شدید تناؤ کا شکار تھے، سرحدی علاقوں میں فوجی نقل و حرکت بڑھ چکی تھی جبکہ میڈیا اور سیاسی حلقوں میں سخت بیانات دیے جا رہے تھے۔

پہلگام ’فالس فلیگ‘

22 اپریل 2025 کو بھارتی زیر قبضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے ترتیب دیے گئے ثابت شدہ ’فالس فلیگ‘ آپریشن میں 26 افراد ہلاک ہوگئے۔ بھارت نے بغیر تحقیقات کے چند ہی گھنٹوں بعد اس حملے کا الزام پاکستان سے منسلک تنظیموں پر عائد کردیا اور دعویٰ کیا کہ حملہ آوروں کا تعلق ’دی ریزسٹنس فرنٹ‘ سے تھا۔

پاکستان نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ بھارت بغیر کسی ثبوت کے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے۔

پاکستان نے عالمی برادری کو بھی باور کرایا کہ یہ بھارت کی جانب سے رچایا گیا ’فالس فلیگ آپریشن‘ ہے اور مؤقف اختیار کیا کہ بھارت اس واقعے کو پاکستان کے جارحیت کے جواز کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اسلام آباد نے عالمی برادری سے آزاد اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا تاہم بھارت نے اس مطالبے کو قبول نہ کیا اور پھر وہ کر دیا جس کی پاکستان اور دُنیا توقع کر رہی تھی۔

پہلگام فالس فلیگ کے بطن سے نکلا ’آپریشن سندور‘

7 مئی 2025 کی رات بھارت نے اچانک ’آپریشن سندور‘ کے تحت پاکستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں پر میزائل اور فضائی حملے کیے۔ بھارتی حکومت کی ایما پر بھارتی افواج نے پاکستان اور آزاد کشمیر کی شہری آبادی کو نشانے بناتے ہوئے بے گناہ اور معصوم شہریوں کو شہید کر دیا۔ پاکستان نے پوری دُنیا کی صحافتی برادری کو مظفرآباد اور دیگر علاقوں کا دورہ کروا کر، بھارتی الزامات اور جھوٹ کا بھانڈا پھوڑ دیا۔

پاکستان نے دُنیا کو دکھایا کہ بھارت کی اس جارحیت اور حملوں میں شہری آبادی، مساجد اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بھارت نے مظفرآباد، کوٹلی، مریدکے، احمد پور شرقیہ، سیالکوٹ اور شکرگڑھ میں حملے کیے گئے جن میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد شہری شہید ہوئے۔ پاکستان نے ان حملوں کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

3 گھنٹوں میں بھارتی غرور خاک میں

پاکستان نے انتہائی صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور دُنیا بھارت کو ان اقدامات سے باز رکھے لیکن بھارت نے عالمی برادری کے مطالبات اور پاکستان کے زیادہ سے زیادہ صبر کی پالیسی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے حملے جاری رکھے۔

جب بھارت نے پاکستان کی اہم دفاعی تنصیبات اور ہوائی اڈوں کو براہموس میزائلوں سے نشانہ بنانا شروع کر دیا تھا صبر کے تمام پیمانے لبریز ہو گئے اور پھر وہ لمحہ بھی آیا جب افواج پاکستان کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھارت کو للکار دی کہ پورا بھارت ہی کانپ اٹھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کو وہ تاریخی جملہ کہ ’جسٹ ویٹ فار اوور ریسپانس‘ آج بھی بھارت کے ایوانوں پر کپکپی طاری کر دیتا ہے۔

بھارتی حملوں کے فوراً بعد پاکستان کی مسلح افواج مکمل جنگی تیاری میں آگئیں۔ پاکستان ایئر فورس، بری فوج اور فضائی دفاعی نظام کو مختلف محاذوں پر فعال کردیا گیا جبکہ جنگی طیارے پاکستان کی فضاؤں میں گرجنے لگے۔ پاکستان کی افواج نے بھارتی غرور پر وہ کاری ضرب لگائی کہ 3 گھنٹوں کے اندر اندر بھارتی توپوں کے منہ خاموش، فضائی میں طیاروں کی راکھ نظر آنے لگی، جب کہ پاکستان کی سرزمین تکبیر کے نعروں سے گونج رہی تھی۔

افواج پاکستان نے ابتدائی جھڑپوں میں ہی بھارتی غروراور’رافیل‘ طیاروں کا ’سندور‘ مٹا کر رکھ دیا، پاکستان نے 8 بھارتی طیارے کو زمین بوس کر دیا جن میں 4 رافیل، 1 سخوئی 30 اور 1 مگ 29  اور ایک انتہائی جدید بغیر پائلٹ کے طیارہ شامل ہے۔ پاکستان اور بھارت کی فضا میں طیاروں کی اس ’ڈاگ فائٹ‘ کو تاریخ کی خطرناک اور جدید ترین فائٹ کا نام دیا گیا، جس میں پاکستان نے دشمن کو ناقابل یقین شکست اور ہزیمت سے دوچار کیا۔

اس کے علاوہ پاکستان کے فتح 1 اور فتح 2 میزائلوں نے بھارت کے فضائی اڈوں کو نست و نابود کر دیا، دیکھتے ہی دیکھتے بھارت کے ایس 400 دفاعی نظام کو دُنیا نے راکھ میں بدلتے ہوئے دیکھا۔

اس کے علاوہ متعدد بھارتی ڈرونز بھی تباہ کر دیے گئے۔ لائن آف کنٹرول پر شدید گولہ باری شروع ہوگئی اور پاکستان نے بھارتی فوج کی متعدد چوکیوں اور عسکری تنصیبات کو بھی زمین بوس کر دیا، بھارتی فوج مورچوں چھوڑ کر بھاگ گئیں، سفید جھنڈے لہرا دیے گئے ۔

ڈرون اور الیکٹرانک جنگ

8 اور 9 مئی کے دوران یہ تصادم جدید ٹیکنالوجی کی جنگ میں تبدیل ہوگیا۔ پاکستان کی سرحد پارنے کرنے والے 77 بھارتی ڈرونز تباہ کر دیے گئے جبکہ کئی براہموس میزائلوں کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا گیا۔ عسکری ماہرین نے اس تصادم کو جنوبی ایشیا کی پہلی بڑی ’ڈرون اور الیکٹرانک وار‘ قرار دیا۔

اس جنگ میں نگرانی کرنے والے ڈرونز، خودکش ڈرونز، ریڈار جامنگ، سائبر آپریشنز اور میزائل دفاعی نظام کا استعمال نمایاں رہا۔ اس میں پاکستان کے شاہینوں صفت سپاہیوں اور افسران اور انجنیرز نے بھارت کے بجلی نظام کو ہیک کر کے اسے اندھیروں میں ڈبو دیا، پاکستان کے اس دعوے کو دشمن نے بھی تسلیم کیا کہ اس نے جدید دفاعی حکمت عملی کے ذریعے پاکستان نے بھارتی حملوں کو مؤثر انداز میں ناکام بنایا۔

میڈیا اور سوشل میڈیا کا محاذ

یہ جنگ صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہی بلکہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھی ایک شدید جنگ لڑی گئی۔ بھارتی میڈیا نے پاکستان کے خلاف بھرپور پروپیگنڈا مہم چلائی جبکہ پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین نے ان دعوؤں کا بھرپور جواب دیا۔

بھارت کی جانب سے سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز، غیر مصدقہ دعوے اور پرانی ویڈیوز کو نئے واقعات سے جوڑ کر پیش کیا جاتا رہا۔ پاکستانی حکومت نے نوجوانوں، خصوصاً ’جنزی‘ اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ’معرکۂ حق‘ میں پاکستانی نوجوان ’ڈیجیٹل سپاہی‘ بن کر سامنے آئے۔

بھارتی فضائی اڈوں پر حملے اور آپریشن بنیان مرصوص

9  اور 10 مئی کی درمیانی شب بھارت کی جانب سے نور خان، مریدکے اور شورکوٹ ایئربیسز کو نشانہ بنانے کی کوشش کے بعد پھر وہ لمحہ آتا ہے جب پاکستان نے ’آپریشن بنیان مرصوص‘ کے تحت بھارت کو آخری اور فیصلہ کن جواب دینے کا فیصلہ کر لیا۔

’بنیان مرصوص‘ عربی اصطلاح ہے جس کا مطلب ’سیسہ پلائی ہوئی دیوار‘ ہے۔ پاکستان کی پوری قوم اللہ اکبر کی بلند صداؤں کے ساتھ اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہو گئی، عوام نے پاکستانی سپاہیوں کو گولہ بارود اٹھانے کے لیے اپنے کندھے پیش کر دیے، لڑائی میں شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا عزم ظاہر کیا۔

پاکستان کے عوام نے پاک افواج کے جوانوں کا ایسا لہو گرمایا کہ شاہینوں نے دشمن کے پٹھان کوٹ ایئربیس، ادھم پور، براہموس میزائل ڈپو، لاجسٹک مراکز، بریگیڈ ہیڈکوارٹرز اور سپلائی ڈپو کو اڑا کر رکھ دیا۔ پھر کیا تھا کہ دُنیا نے دیکھا کہ پاکستان نے اپنے سے 10 گنا بڑے دشمن کو 3 گھنٹوں میں ہی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا، پاکستان کی یہ کارروائی حقیقی طور پر ’بنیان مرصوص‘ بن کر رہ گئی، بھارت کو یہ جواب قومی اتحاد، عسکری مہارت اور دفاعی صلاحیت کی علامت بن کر رہ گیا۔

سفارتی محاذ پر پاکستان کی کامیابی

جب بھارت نے اپنے غرور کو خاک ہوتے ہوئے دیکھا تو اس نے پاکستان کے ہاتھوں مزید تباہی کو روکنے کے لیے اسی عالمی برادری کے سامن گھڑ گھڑانا شروع کر دیا جس کی بات وہ ماننے کے لیے تیار نہیں تھا، پاکستان نے سفارتی سطح پر اخلاقی برتری حاصل کر لی ۔

اس مختصر جنگ کے دوران سعودی عرب، چین، ترکیہ، قطر، ایران اور متحدہ عرب امارات نے پاکستان کے ساتھ قریبی رابطے رکھے۔ سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ عادل الجبیر اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد کا ہنگامی دورہ کیا جبکہ متعدد عالمی رہنماؤں نے پاکستانی قیادت سے رابطہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:معرکہ حق دو نظریات کے درمیان فیصلہ کن جنگ تھی، حق فتح یاب ہوا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا جی ایچ کیو میں تاریخی خطاب

 پاکستان نے عالمی سطح پر یہ مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا کہ وہ جنگ نہیں چاہتا بلکہ دفاعی ردعمل دے رہا ہے اور خطے میں امن کا خواہاں ہے۔ عالمی میڈیا میں بھی پاکستان کا مؤقف نمایاں طور پر سامنے آیا جبکہ مختلف عالمی حلقوں نے مسئلہ کشمیر کے حل کی ضرورت پر زور دیا۔

’معرکہ حق ‘ کی برکات ایسے سامنے آئیں کہ پاکستان دُنیا میں ایک نئی طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا، دُنیا پاکستان کی کامیابیوں کے معترف اور تعریفوں کے پل باندھنے لگے، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ’دفاعی معاہدہ‘ طے پا گیا، دیگر ممالک پاکستان سے ہتھیاروں کی خریداری کے معاہدے کرنے پر آ گئے، پاکستان کا پاسپورٹ دُنیا میں احترام کی بلندیوں پر پہنچ گیا، تاجکستان، آذر بائیجان، ترکیہ کی اعلیٰ قیادت نے فوری پاکستان کے دورے کیے۔

پاکستان نے حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے لیے ’پیس بورڈ‘ کے حوالے سے انتہائی اہم کردار ادا کیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی مرتبہ پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خصوصی دعوت پر مدعو کیا جس کے بعد امریکی صدر پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریفوں کے پل باندھنے لگے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مؤقف کی تائید

جنگ کے دوران امریکا، چین، اقوام متحدہ اور خلیجی ممالک مسلسل دونوں ممالک سے رابطے میں رہے۔ عالمی طاقتوں نے فوری جنگ بندی پر زور دیا اور خبردار کیا کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

پاکستان کی فوری عسکری تیاری، مربوط فضائی دفاع، فعال سفارتکاری اور میڈیا حکمت عملی نے عالمی سطح پر اس کی پوزیشن کو مضبوط کیا۔ امریکی خفیہ اداروں نے بھی ’معرکۂ حق‘ میں پاکستان کی کامیابیوں کا اعتراف کیا جو بعد ازاں عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ اور وقار کی بلندی کا باعث بنا۔

جنگ بندی اور بعد کی صورتحال

10 مئی 2025 کو شام تقریباً ساڑھے 4 بجے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا۔ جس کے بعد امریکی صدر نے بھی پاکستان کی کامیابیوں کا ہر تقریب میں دعویٰ کرتے ہوئے تصدیق کی کہ پاکستان نے جدید رافیل طیاروں سمیت بھارت کے 8 طیارے مار گرائے۔

پھر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی اپنے ملک اور بیرون ملک ایسی ساکھ مجروع ہوئی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انہیں کئی القابات سے پکارنے لگے اور انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کے لیے ان کی منت سماجت کی، دونوں ممالک کےدرمیان جنگ بندی عسکری رابطوں، عالمی دباؤ اور سفارتی کوششوں کے علاوہ بھارت کی اپنی ایما پر ہوئی، پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی معرکہ حق کی پہلی سالگرہ پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جنگ بندی کے لیے منتیں کیں۔

جنوبی ایشیا کے لیے ایک نیا سبق

آج 10 مئی 2025 کو پوری قوم اور افواج پاکستان ’معرکہ حق ‘ میں اللہ کی نصرت سے اس کامیابی پر جشن اور سجدہ شکر بجا لا رہی ہیں کہ اللہ نے انہیں اپنے سے 10 گنا بڑے دشمن کو ’دھول‘ چٹانے میں اور اس کا غرور خاک میں ملانے میں مدد فراہم کی۔

آج جب پاکستان کی پوری قوم اس معرکہ حق میں اپنے شہدا کو خراج عقیدت پیش کر رہی ہے تو وہاں اس بات پر بھی شکر بجا لایا جا رہا ہے کہ اس مختصر جنگ نے پاکستان کو فخر بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔

بھارت کے ساتھ اس مختصر جنگ نے واضح کیا کہ مستقبل کی جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ ڈرونز، سائبر وارفیئر، الیکٹرانک حملوں، میڈیا بیانیے اور سفارتی دباؤ کے ذریعے بھی لڑی جائیں گی۔ ’آپریشن بنیان مرصوص‘ پاکستان میں قومی مزاحمت، عسکری مہارت اور اتحاد کی علامت بن گیا جبکہ ’معرکۂ حق‘ ایک نئے قومی بیانیے کے طور پر ابھرا۔

مئی 2025 کے یہ واقعات آنے والے برسوں تک جنوبی ایشیا کی سیاست، دفاعی حکمت عملی، سفارتکاری اور میڈیا پر گہرے اثرات مرتب کرتے رہیں گے۔

آج ’معرکہ حق‘ کی پہلی سالگرہ پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قوم کے اس عزم کو ایک بار پھر دہرایا ہے کہ  ‘معرکہ حق’ محض دو ممالک کے درمیان روایتی جنگ نہ تھی، بلکہ یہ دو متضاد نظریات کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ تھا جس میں اللہ کے فضل سے ‘حق’ کو فتح نصیب ہوئی۔

فیلڈ مارشل نے معرکہ حق کو ‘بنیان مرصوص’ (سیسہ پلائی ہوئی دیوار) قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک سال قبل آج کے دن پاکستان کو جو بے مثال کامیابی ملی، اس نے ثابت کر دیا کہ جب ایمان اور عزم یکجا ہوں تو مادی قوتیں ہیچ ثابت ہوتی ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ دشمن کی ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا گیا اور مستقبل میں بھی پاکستان کے دشمنوں کو اسی طرح عبرت ناک شکست سے دوچار کیا جائے گا۔

چیف آف ڈیفنس فورسز اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دشمن کو آخری اور سخت ترین وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا دفاع اب کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف مکمل طور پر ناقابلِ تسخیر ہو چکا ہے اور آئندہ کسی بھی مہم جوئی کا جواب پہلے سے زیادہ تکلیف دہ اور دور رس ہوگا۔

Related Articles