اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ اسرائیل کا ای ون منصوبہ فلسطینی ریاست کے جغرافیائی تسلسل کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ سیکرٹری جنرل کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں 4 ہزار 750 رہائشی یونٹس کی منظوری یا پیش رفت تشویشناک رجحان ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں حالات مسلسل تشویشناک رخ اختیار کر رہے ہیں جہاں بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں۔
ان کے مطابق سلامتی کونسل کے متعدد ارکان نے بھی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے احتساب پر زور دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ای ون منصوبہ دو ریاستی حل کے لیے بڑا چیلنج ہے، جبکہ فلسطینی اتھارٹی کی مالی رقوم کی بندش فلسطینی اداروں کو کمزور اور حکمرانی کو مفلوج کرنے کی کوشش ہے۔
انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کے مالی وسائل کی بندش پر بھی تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے فلسطینی ادارے کمزور ہو رہے ہیں اور حکومتی نظام کو مفلوج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے گزشتہ سال “ای ون” منصوبے کی منظوری دی تھی، جس کے تحت مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے درمیان اسرائیلی آبادکاروں کے لیے 3 ہزار 401 نئے مکانات تعمیر کیے جانے کا منصوبہ شامل ہے ، اس منصوبے سے مستقبل میں ایک مربوط اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات مزید محدود ہو سکتے ہیں۔