’یہ لگتا فرشتہ ہے لیکن حقیقت میں ’قاتل سودے باز‘ ہے، صدر ٹرمپ نے میٹھے انداز میں’مودی ‘ کا اصل چہرہ بے نقاب کردیا

’یہ لگتا فرشتہ ہے لیکن حقیقت میں ’قاتل سودے باز‘ ہے، صدر ٹرمپ نے میٹھے انداز میں’مودی ‘ کا اصل چہرہ بے نقاب کردیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے روایتی اور بے باک اندازِ گفتگو سے دنیا کو ایک بار پھر حیران کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بارے میں ایک انتہائی سخت اور متنازع تبصرہ کر دیا ہے۔

 سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اپنے سامنے بیٹھے بھارتی وزیراعظم کو براہِ راست مخاطب کیا اور ان کی ظاہری شخصیت اور باطنی سختی کا موازنہ ایک ‘قاتل’ سے کر دیا۔

امریکی صدر کے اس غیر متوقع اور چونکا دینے والے بیان نے نہ صرف مودی کو ششدر کر دیا بلکہ وہاں موجود دونوں ممالک کے اعلیٰ سفارتی وفود کو بھی گہری سوچ میں ڈال دیا۔

فرشتہ یا سخت گیر؟ ٹرمپ کے قاتلانہ الفاظ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیراعظم کی ظاہری شکل و صورت کا ذکر کرتے ہوئے پہلے تو طنزیہ تعریفی انداز اپنایا اور کہا کہ یہ دیکھنے میں انتہائی خوبصورت آدمی ہے، اتنا اچھا اور نرم مزاج لگتا ہے جیسے کوئی فرشتہ ہو۔

تاہم، اپنے جملے کو سنسنی خیز موڑ دیتے ہوئے امریکی صدر نے اگلی ہی سانس میں حقیقت سے پردہ اٹھایا اور کہا کہ لیکن حقیقت میں یہ انتہائی سخت آدمی ہے، جیسے کوئی ’قاتل سودے باز‘(کلر ڈیل میکر) ہو۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا معاہدہ، مودی کے متعصبانہ ردعمل پر بھارتی شہریوں کی سخت تنقید

صدر ٹرمپ کا اشارہ مودی کی سخت گیر سیاسی حکمتِ عملی اور تجارتی و سفارتی معاملات میں اپنے مفادات کے لیے کسی بھی حد تک جانے کی عادت کی طرف تھا۔

ٹرمپ کا اندازِ گفتگو اور مودی کے ساتھ ماضی کے تعلقات

ڈونلڈ ٹرمپ بین الاقوامی رہنماؤں کے بارے میں اس طرح کے غیر روایتی اور بعض اوقات تضحیک آمیز جملے استعمال کرنے کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ وہ ماضی میں شمالی کوریا کے رہنما کو ’روکٹ مین‘ اور دیگر عالمی رہنماؤں کو بھی مختلف القابات سے نواز چکے ہیں۔

اگرچہ مودی اور ٹرمپ کے مابین ’ہاؤڈی مودی‘ اور ’نمستے ٹرمپ‘ جیسے بڑے عوامی اجتماعات کے ذریعے ماضی میں قریبی تعلقات کا مظاہرہ کیا جاتا رہا ہے، لیکن امریکی صدر ہمیشہ تجارتی ٹیرف (ٹیکسوں) اور امریکی مفادات کے معاملے پر بھارت کی پالیسیوں سے نالاں رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:مودی پر کاکروچ جنتا پارٹی کا بڑھتا ہوا خوف، عالمی میڈیا پر حقیقت کا انکشاف

یہ حالیہ تبصرہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور بھارت کے مابین تجارتی تعلقات، امیگریشن قوانین اور روس و چین کے ساتھ بھارت کے دوہرے سفارتی معیار پر پسِ پردہ تناؤ پایا جاتا ہے۔

’کیرٹ اینڈ اسٹک‘ کی حکمتِ عملی

ٹرمپ نے مودی کو پہلے فرشتہ اور پھر ’قاتل سودے باز‘ کہہ کر واضح کر دیا ہے کہ وہ بھارت کی ظاہری سفارتی چکنی چپڑی باتوں میں آنے والے نہیں ہیں۔ وہ مودی کی قوم پرستانہ اور سخت گیر اندرونی و بیرونی پالیسیوں سے پوری طرح واقف ہیں اور بھارت کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ امریکا کے ساتھ سودے بازی آسان نہیں ہوگی۔

بھارت کے ‘سافٹ امیج’ کو دھچکا

 بھارت دنیا بھر میں خود کو ایک پرامن اور سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ لیکن دنیا کی سب سے بڑی طاقت کے صدر کی زبان سے مودی کے لیے ’قاتل‘ کا لفظ نکلنا (خواہ وہ تجارتی سودے بازی کے تناظر میں ہی کیوں نہ ہو) بین الاقوامی سطح پر نئی دہلی کے لیے شدید شرمندگی کا باعث بنے گا۔

بحرانِ ہند و پاک اور مودی کا انتہا پسندانہ ریکارڈ

مودی کی سیاسی تاریخ (خاص طور پر 2002 کے گجرات فسادات اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں) ہمیشہ سے عالمی اداروں کی نظر میں رہی ہے۔ ٹرمپ کا یہ جملہ لاشعوری طور پر مودی کے اسی ماضی اور اقلیتوں کے خلاف ان کے سخت گیر رویے کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

Related Articles