ڈیزل سستا مگر پیٹرول مہنگا کیوں؟ وزیر پیٹرولیم نے پیٹرولیم مصنوعات میں مزید اضافے کی نوید سنادی

ڈیزل سستا مگر پیٹرول مہنگا کیوں؟ وزیر پیٹرولیم نے پیٹرولیم مصنوعات میں مزید اضافے کی نوید سنادی

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ مسلسل مذاکرات میں مصروف ہے اور اگر مالیاتی ادارے سے رعایت نہ ملی تو پیٹرولیم لیوی میں 50 سے 55 روپے فی لیٹر اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ حکومت کو اقتدار سنبھالتے وقت سنگین معاشی بحران درپیش تھا، زرمبادلہ کے ذخائر محدود تھے اور توانائی کے شعبے میں اسٹریٹجک پلاننگ کا فقدان تھا۔ اس کے باوجود حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کیوں ہوا؟ ڈویلپمنٹ لیوی کیوں بڑھی، اہم راز کھل گیا

انہوں نے بتایا کہ عوامی مشکلات کو کم کرنے کے لیے وفاق اور صوبوں نے مل کر 100 ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا، جبکہ ڈیزل پر لیوی ختم کر کے اس کا بوجھ پیٹرول پر منتقل کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان میں ڈیزل کی قیمت عالمی سطح پر کم ترین سطحوں میں شمار ہوتی ہے۔

وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ حکومت نے ماضی میں پیٹرول کی قیمتوں میں 80 روپے تک کمی کی، تاہم اس اقدام کو سیاسی طور پر متنازع بنایا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئی ایم ایف معاہدے کی پابندی ضروری ہے، بصورت دیگر معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

پاکستان گزشتہ چند برسوں سے شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے، جس میں زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی، درآمدی بل میں اضافہ اور توانائی کے شعبے کے مسائل شامل ہیں۔

وزیر پیٹرولیم نے مزید کہا کہ اسحاق ڈار، وزیراعظم اور عسکری قیادت ملک میں معاشی استحکام اور دیگر بحرانوں سے نکلنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی پاسداری ناگزیر ہے کیونکہ اس کے بغیر معیشت کو آگے بڑھانا ممکن نہیں۔

حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت متعدد مالیاتی اصلاحات کی ہیں، جن میں ٹیکسز اور لیویز میں اضافہ بھی شامل ہے۔ پیٹرولیم لیوی انہی اقدامات کا اہم حصہ ہے جس کے ذریعے حکومتی آمدن بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

Related Articles