بلوچستان اسمبلی اجلاس میں پی ٹی آئی پر پابندی عائد کرنے کی قرار داد منظور، پنجاب میں بھی قرارداد جمع

بلوچستان اسمبلی اجلاس میں پی ٹی آئی پر پابندی عائد کرنے کی قرار داد منظور، پنجاب میں بھی قرارداد جمع

بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں پی ٹی آئی پر پابندی عائد کرنے کی قرار داد منظورکرلی گئی، اپوزیشن نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔

بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ(ن) کے پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر محکمہ مواصلات و تعمیرات میر سلیم کھوسہ نے صوبائی وزراء اور اراکین اسمبلی میر محمد صادق عمرانی، میر محمد عاصم کرد،راحیلہ حمید خان درانی،بخت محمد کا کڑ،ولی محمد نورز ئی،برکت علی رند، زرک خان مندوخیل کی مشترکہ قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ 09 مئی کو ملک گیر فسادات بر پا کرنے والی جماعت پی ٹی آئی کی جانب سے ایک مرتبہ پھر پر تشدد کاروائیاں کی جارہی ہیں۔

پی ٹی آئی کے اس قسم کے انتشاری ایجنڈے نے ملک کے ہر نظام اور مکتبہ فکر کے افراد بشمول عدلیہ، میڈیا اور ملک کی اکانومی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
واضح رہے کہ ایک صوبے کے آئینی وزیر اعلی کے وفاق اور فیڈریشن کے خلاف محاز آرائی کی باتیں ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا آگے لے جانے کے مترادف ہے۔ اس کے علاوہ کے پی حکومت کا سرکاری مشینری اور وسائل کے ساتھ وفاق پر چھتوں کی صورت میں اعلانیہ حملہ کرنا کسی بھی سیاسی جماعت کے غیر سیاسی ایجنڈے کی واضح ثبوت ہے۔

پاک فوج ہمیشہ مشکل وقت میں قوم کی تو قعات پر پورا اتری ہے اور اس کے شاہینوں نے ہمیشہ قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ یہ ایوان اپنی فورسز اور افواج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہنے کا عزم کرتا ہے۔مذکورہ بالا حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے بلوچستان اسمبلی کا یہ ایوان ملک میں انتشار پھیلانے، افواج پاکستان اور سیکورٹی فورسز کو عوام کے ساتھ براہ راست لڑانے کی کوشش کرنے پر وفاقی حکومت سے پر زور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ پی ٹی آئی پر فوری طور پر پابندی لگانے کو یقینی بنائے۔

انہوں نے کہا کہ اس جماعت پر پابندی نہ لگی تو ملک کو نقصان ہوگا جتھے کے ذریعے رہائی حاصل کرنے کا طریقہ کار درست نہیں ملک میں عدلیہ موجود ہے وہ وہاں سے اپنے حق میں فیصلے لیں پی ٹی آئی کو آئین اور قانون صرف اس وقت قابل قبول ہوتا ہے جب انہیں اقتدار ملے۔ یہ سیاسی جماعت نہیں جتھا ہے جس نے ملک کو کمزور کیا ہے۔

خیبرپختونخوا میں گورنر راج، وفاقی کابینہ کی اکثریت نے حمایت کر دی

قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے صوبائی وزیر بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ پابندی کی قرار داد مشکل کام تھا مگر جب کوئی جماعت آئین و قانون پر عملدآمد نہ کرے،سوشل میڈیا پر اداروں پر گالم گلوچ کرے اور آئین کی پاسداری نہ کرے تو اس صورتحال میں پابندی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔

حق دو تحریک کے مولانا ہدایت الرحمن نے قرار داد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم سے زیادہ لوگوں کا قتل عام کسی جماعت نے نہیں کیا آج وہ وفاقی کابینہ کا حصہ ہیں انکا گورنر سندھ میں تعینات ہے اگر پی ٹی آئی کے کسی کارکن نے غلط کام کیا ہے تو اسے قانون کے مطابق سزا دی جائے جب بلوچ اور پشتونوں کے قاتلوں پر پابندی نہیں لگی تو پی ٹی آئی پر پابندی کیوں لگائی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ٹرالر،دکانیں،ہوٹل جلائے گئے کیا اس پر پابندی لگائی گئی؟ بعدازاں ایوان نے قرارداد کو منظور کرلیا۔

دوسری جانب پنجاب اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف پر فوری طور پر پابندی لگانے کی قرارداد جمع کروا دی گئی۔مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی رانا محمد فیاض کی جانب سے جمع کرائی گئی قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ 24 نومبر کا حملہ بھی قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی اس جماعت کو اسلام آباد میں احتجاج کی اجازت نہیں دی تھی۔

قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ انتشاری ٹولے نے اعلی عدلیہ کے فیصلوں کو بھی ماننے سے انکار کر کے یہ ثابت کر دیا کہ یہ جماعت کسی بھی ادارے کی عزت نہیں کرتی ہے، قرارداد کے متن میں مطالبہ کیا گیا کہ 24 نومبر کے ذمہ داروں اور منصوبہ سازوں کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

پنجاب اسمبلی میں جمع قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اس انتشاری ٹولے کو جو کہ ایک سیاسی جماعت ہونے کا دعوی کرتا ہے پر فی الفور پابندی عائد کی جائے تاکہ آئندہ کوئی فرد یا گروہ ایسی گھناؤنی سازش سوچنے سے بھی گریز کرے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *