ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری ایک بیان میں محسن نقوی نے تصدیق کی کہ انہوں نے وزیراعظم سے شائقین کی شرکت کے لیے خصوصی اجازت طلب کی تھی۔
محسن نقوی نے اپنی پوسٹ میں واضح کیا کہ اگرچہ ملک بھر میں ایندھن کی کھپت کو کم کرنے کے لیے سخت کفایت شعاری کے اقدامات نافذ ہیں، لیکن وزیراعظم نے کرکٹ شائقین کے جذبے اور فرنچائز مالکان کے اصرار کو مدنظر رکھتے ہوئے فائنل کے لیے ہجوم کی اجازت دے دی ہے۔
وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتی وسائل کا تحفظ اولین ترجیح ہے، تاہم ٹائٹل مقابلے کے لیے حامیوں کو سہولت فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔
واضح رہے کہ پی ایس ایل 11 کے آغاز سے قبل امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری علاقائی تنازعے کے باعث پیدا ہونے والے ایندھن بحران کے پیشِ نظر سخت پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔
پی سی بی نے اعلان کیا تھا کہ عوامی نقل و حرکت کو محدود رکھنے کے لیے میچز صرف کراچی اور لاہور تک محدود رہیں گے اور تماشائیوں کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ تاہم، اب اس پالیسی میں جزوی نرمی کر دی گئی ہے جس کا خیرمقدم کرکٹ حلقوں کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔
پاکستان سپر لیگ کا 11 واں ایڈیشن ایک ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی نے عالمی سطح پر توانائی کا بحران پیدا کر رکھا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری بحری ناکہ بندی اور حملوں کے نتیجے میں پاکستان سمیت کئی ممالک کو پیٹرولیم مصنوعات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ اسی تناظر میں حکومتِ پاکستان نے بجلی اور ایندھن بچانے کے لیے بڑے اجتماعات پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔
پی سی بی نے ابتدائی طور پر ’خالی اسٹیڈیم‘ کی پالیسی اپنائی تھی تاکہ ٹرانسپورٹیشن اور سیکیورٹی پر اٹھنے والے ایندھن کے اخراجات کو کم کیا جا سکے۔ تاہم فرنچائز مالکان نے وزیراعظم شہباز شریف اور صوبائی وزرائے اعلیٰ سے براہِ راست رابطہ کر کے یہ موقف اپنایا کہ تماشائیوں کے بغیر لیگ اپنی شناخت کھو رہی ہے اور مالی طور پر بھی نقصان دہ ہے۔ آج 25 اپریل 2026 کو ہونے والا یہ فیصلہ شائقینِ کرکٹ کے لیے ایک بڑی رعایت قرار دیا جا رہا ہے۔