سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کی محسن نقوی سے اہم ملاقات کی تصدیق؟ علیمہ خان کا بیان بھی سامنے آگیا

سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کی محسن نقوی سے اہم ملاقات کی تصدیق؟ علیمہ خان کا بیان بھی سامنے آگیا

خیبرپختونخوا (کے پی) میں دہشتگردی کی حالیہ لہر اور خصوصاً بنوں میں ہونے والے شدید سیکیورٹی کریک ڈاؤن کے بعد، پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی اعلیٰ قیادت اور وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے درمیان ایک انتہائی اہم اور غیر معمولی ملاقات کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس ملاقات کو موجودہ سنگین حالات میں وفاق اور صوبے کے درمیان سیکیورٹی روابط کے لیے اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

ملاقات کے شرکا اور مقام کی تفصیلات

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور عمران خان کی بہن علیمہ خان کے اہم بیانات منظر عام پر آئے ہیں جن اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ محسن نقوی اور پی ٹی آئی قیادت کے درمیان یہ اہم سیکیورٹی بیٹھک پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کی رہائش گاہ پر ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:ڈی جی آئی ایس پی آر کی یوٹیوبرز اور صحافیوں کیساتھ ان گنت ملاقاتیں ، عمران ریاض نے پہلی ”ملاقات “ بنا کربونگی دے ماری

ملاقات میں خیبرپختونخوا کے وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی اور بیرسٹر گوہر علی خان نے پی ٹی آئی کی نمائندگی کی، جبکہ وفاق کی جانب سے وزیرِ داخلہ محسن نقوی شریک ہوئے۔

پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ملاقات کی باقاعدہ تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ ملاقات کا بنیادی مقصد صوبے، بالخصوص بنوں میں امن و امان کی خراب صورتحال پر غور کرنا اور دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری (کوآرڈینیشن) قائم کرنا تھا۔

بنوں آپریشن کا پس منظر

یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہفتے کے روز بنوں میں سیکیورٹی فورسز، مقامی امن کمیٹی اور دہشت گردوں کے درمیان ایک خونریز جھڑپ ہوئی۔

اس بڑے آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے 25 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، تاہم اس شدید فائرنگ کے تبادلے میں 2 پولیس اہلکار اور 2 عام شہری بھی جامِ شہادت نوش کر گئے۔ بنوں کے اس واقعے نے صوبائی حکومت اور امن و امان قائم کرنے والے وفاقی اداروں کو سر جوڑ کر بیٹھنے پر مجبور کیا۔

وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ملاقات میں اس بات پر سخت زور دیا کہ دہشتگردی کے اس ناسور پر قابو پانے کے لیے روایتی طریقوں سے ہٹ کر ایک مؤثر اور مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

سیاسی افواہوں کی تردید اور علیمہ خان کا بیان

ملاقات کی خبریں منظرِ عام پر آتے ہی سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ اس بیٹھک میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی یا کسی سیاسی ڈیل پر بات ہوئی ہے اور دعویٰ کیا گیا کہ عمران خان کی بہن علیمہ خان بھی اس کا حصہ تھیں۔

تاہم پی ٹی آئی نے ان تمام خبروں کی سختی سے تردید کر دی ہے۔ علیمہ خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں واضح کیا ’ نہ تو مجھے اس ملاقات کی پیشگی کوئی اطلاع تھی اور نہ ہی خان صاحب کے خاندان کا کوئی بھی فرد اس بیٹھک میں شریک تھا‘۔

وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بھی اپنے وضاحتی بیان میں کہا کہ ملاقات کا ایجنڈا صرف اور صرف بنوں کے واقعات اور صوبے کی سیکیورٹی تھا، اس میں کسی بھی قسم کی سیاسی گفتگو یا سودے بازی زیرِ بحث نہیں آئی۔

ادھر ایک طرف جہاں سیکیورٹی پر وفاق سے رابطہ کیا گیا، وہیں پی ٹی آئی نے بانی چیئرمین عمران خان کی جیل میں ملاقاتوں پر عائد پابندیوں کے خلاف ایک بار پھر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

پی ٹی آئی نے عمران خان کو فوری طور پر اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ دہرایا ہے۔ پارٹی کے مطابق  رواں سال جنوری میں عمران خان کی دائیں آنکھ میں ایک خطرناک بیماری ’سنٹرل ریٹینل وین اوکلوژن‘ تشخیص ہوئی تھی، جو آنکھ کی رگوں میں خون جمنے یا بلاکیج کی وجہ سے ہوتی ہے اور اس کا فوری اور ماہرانہ علاج جیل کی حدود میں ممکن نہیں ہے۔

سیکیورٹی پر سیاسی اختلافات پسِ پشت ڈالنے کی ضرورت

خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی کی صورتحال دن بہ دن سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ بنوں کا حالیہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد اب زیادہ منظم ہو کر سیکیورٹی فورسز اور امن کمیٹیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ایسے میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اور ن لیگ کی اتحادی وفاقی حکومت کے درمیان سیاسی سرد جنگ کا جاری رہنا دہشت گردوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی اور محسن نقوی کی یہ ملاقات ظاہر کرتی ہے کہ جب بات ملکی سلامتی اور شہریوں کی جان و مال کی آتی ہے، تو سخت سیاسی حریفوں کو بھی مشترکہ میز پر بیٹھنا پڑتا ہے۔

تاہم، چیلنج اب یہ ہے کہ کیا بیرسٹر گوہر کی رہائش گاہ پر ہونے والے فیصلوں پر عملی طور پر عملدرآمد ہوگا؟ اگر وفاق اور صوبے کے انٹیلی جنس اور سیکیورٹی ادارے ایک پیج پر نہ آئے، تو کے پی میں امن کا خواب ادھورا رہ سکتا ہے۔

Related Articles