خیبرپختونخوا (کے پی) میں دہشتگردی کی حالیہ لہر اور خصوصاً بنوں میں ہونے والے شدید سیکیورٹی کریک ڈاؤن کے بعد، پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی اعلیٰ قیادت اور وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے درمیان ایک انتہائی اہم اور غیر معمولی ملاقات کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس ملاقات کو موجودہ سنگین حالات میں وفاق اور صوبے کے درمیان سیکیورٹی روابط کے لیے اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
ملاقات کے شرکا اور مقام کی تفصیلات
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور عمران خان کی بہن علیمہ خان کے اہم بیانات منظر عام پر آئے ہیں جن اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ محسن نقوی اور پی ٹی آئی قیادت کے درمیان یہ اہم سیکیورٹی بیٹھک پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کی رہائش گاہ پر ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں:ڈی جی آئی ایس پی آر کی یوٹیوبرز اور صحافیوں کیساتھ ان گنت ملاقاتیں ، عمران ریاض نے پہلی ”ملاقات “ بنا کربونگی دے ماری
ملاقات میں خیبرپختونخوا کے وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی اور بیرسٹر گوہر علی خان نے پی ٹی آئی کی نمائندگی کی، جبکہ وفاق کی جانب سے وزیرِ داخلہ محسن نقوی شریک ہوئے۔
میری محسن نقوی سے ملاقات بنوں میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعات اور صوبے کے امن و امان کے حوالے سے تھی اور اس میں کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی جو کہ رپورٹ کی جا رہی ہے- https://t.co/JQkBKs5Z17
— Sohail Afridi (@SohailAfridiISF) May 24, 2026
پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ملاقات کی باقاعدہ تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ ملاقات کا بنیادی مقصد صوبے، بالخصوص بنوں میں امن و امان کی خراب صورتحال پر غور کرنا اور دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری (کوآرڈینیشن) قائم کرنا تھا۔
بنوں آپریشن کا پس منظر
یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہفتے کے روز بنوں میں سیکیورٹی فورسز، مقامی امن کمیٹی اور دہشت گردوں کے درمیان ایک خونریز جھڑپ ہوئی۔
اس بڑے آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے 25 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، تاہم اس شدید فائرنگ کے تبادلے میں 2 پولیس اہلکار اور 2 عام شہری بھی جامِ شہادت نوش کر گئے۔ بنوں کے اس واقعے نے صوبائی حکومت اور امن و امان قائم کرنے والے وفاقی اداروں کو سر جوڑ کر بیٹھنے پر مجبور کیا۔
وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ملاقات میں اس بات پر سخت زور دیا کہ دہشتگردی کے اس ناسور پر قابو پانے کے لیے روایتی طریقوں سے ہٹ کر ایک مؤثر اور مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔
سیاسی افواہوں کی تردید اور علیمہ خان کا بیان
ملاقات کی خبریں منظرِ عام پر آتے ہی سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ اس بیٹھک میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی یا کسی سیاسی ڈیل پر بات ہوئی ہے اور دعویٰ کیا گیا کہ عمران خان کی بہن علیمہ خان بھی اس کا حصہ تھیں۔
Barrister Gohar and Sohail Afridi met Mohsin Naqvi. Our family had no knowledge of this meeting and neither was any family member present. pic.twitter.com/7tAyNOt4TK
— Aleema Khanum (@Aleema_KhanPK) May 24, 2026

