۹ اور ۱۰ مئی کے مقدمات میں ایک اہم قانونی پیشرفت سامنے آئی ہے، جس میں آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا حکومت کو کیس واپس لینے سے عارضی طور پر روک دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق عدالت نے ریڈیو پاکستان کی درخواست پر حکمِ امتناع جاری کیا، جس کے تحت صوبائی حکومت فی الحال اس مقدمے کو ختم نہیں کر سکتی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پشاور میں کیس کی سماعت پر خیبرپختونخوا حکومت اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے، لہٰذا شفاف ٹرائل کے لیے مقدمہ اسلام آباد یا پنجاب کی کسی عدالت منتقل کیا جائے۔
یہ وہی مقدمہ ہے جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سمیت سابق وزراء اور پاکستان تحریک انصاف کے دیگر رہنماؤں کو نامزد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ تاہم تاحال پولیس کی جانب سے اس کیس میں چالان جمع نہیں کرایا گیا، جس کی وجہ سے قانونی کارروائی مکمل طور پر آگے نہیں بڑھ سکی۔
واضح رہے کہ صوبائی حکومت نے گزشتہ سال ۹ اور ۱۰ مئی کے مختلف مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا، جن میں یہ مقدمہ بھی شامل تھا۔ اب عدالت کے حکم کے بعد اس فیصلے پر عملدرآمد عارضی طور پر رک گیا ہے، اور آئندہ سماعت میں اس معاملے کی مزید قانونی حیثیت واضح ہونے کا امکان ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا 9 مئی کے گھناؤنے واقعات، خاص طور پر ریڈیو پاکستان پشاور پر حملے کی حقیقت کو چھپانے کا بیانیہ بری طرح ناکام ہو چکا ہے اور حالیہ عدالتی حکم امتناع نے ان کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے۔
وفاقی آئینی عدالت اور ہائی کورٹ کی جانب سے ریڈیو پاکستان کے حق میں آنے والے فیصلوں نے واضح کر دیا ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے پاس اب فرار کا کوئی راستہ نہیں بچا۔ اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے متوازی کمیٹیاں بنانے کا ان کا بھونڈا ڈرامہ عدالتوں نے مسترد کر دیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست پر حملہ کرنے والے اب قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔
خیبر پختونخوا میں بیٹھی پی ٹی آئی حکومت اور موجودہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا کردار اس پوری سازش میں بے نقاب ہو چکا ہے، جن کی ویڈیوز اور فرانزک ثبوت انہیں اس تخریب کاری کے مرکز میں کھڑا کرتے ہیں۔
اقتدار کے نشے میں بدمست اس ٹولے نے صوبائی اسمبلی کے پلیٹ فارم کو اپنے مذموم مقاصد اور مجرموں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے استعمال کرنے کی شرمناک کوشش کی۔ یہ کتنی بڑی منافقت ہے کہ جو لوگ خود ریاستی املاک کو نذرِ آتش کرنے کے مقدمات میں نامزد ہیں، وہی اپنے دفاع میں تحقیقاتی کمیٹیاں بنا کر خود کو کلین چٹ دینے کی بھونڈی کوشش کر رہے تھے، جسے عدلیہ نے بروقت ناکام بنا دیا۔
پی ٹی آئی کے اے ٹی ایمز (ATMs) اور ان کے سرمایہ دار سرپرستوں کی وہ تمام کوششیں بھی خاک میں مل چکی ہیں جن کا مقصد پیسے اور اثر و رسوخ کے زور پر 9 مئی کے مقدمات کی رفتار کو سست کرنا تھا۔ اربوں روپے لٹانے اور اثر و رسوخ استعمال کرنے کے باوجود ان کے حربے دم توڑ رہے ہیں، کیونکہ حقائق اور فرانزک شواہد اتنے ٹھوس ہیں کہ انہیں جھٹلایا نہیں جا سکتا۔
عدالتی کارروائی کو التوا کا شکار کرنے اور قانونی عمل میں روڑے اٹکانے کی ان کی ہر سازش ان کے اپنے گلے کا طوق بن چکی ہے اور ان کی بوکھلاہٹ بتا رہی ہے کہ انہیں اپنی سیاسی و قانونی شکست صاف نظر آ رہی ہے۔
یہ حالیہ عدالتی فیصلے اس بات کی نوید ہیں کہ 9 مئی کے بلوائیوں اور ان کے ماسٹر مائنڈز کو ان کے کیے کی سزا مل کر رہے گی اور ان کی نام نہاد مقبولیت کا غبارہ اب پھٹ چکا ہے۔
پی ٹی آئی نے اقتدار کی ہوس میں ریاست کو کمزور کرنے کی جو مذموم تاریخ رقم کی، آج وہی تاریخ انہیں کٹہرے میں لا کھڑا کر چکی ہے جہاں سے واپسی ناممکن ہے۔ قانون اپنا راستہ بنا رہا ہے، اور وہ دن دور نہیں جب ریڈیو پاکستان کی راکھ سے اٹھنے والا انصاف کا یہ شعلہ ان تمام سیاسی مجرموں کے جھوٹے بیانیوں اور اقتدار کے غرور کو جلا کر بھسم کر دے گا۔