واشنگٹن میں امریکی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ معاہدے کے حوالے سے فوری پیش رفت کا امکان نہیں ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے سے متعلق معاہدہ جلد طے ہونا ممکن نہیں اور ایرانی قیادت کی جانب سے حتمی منظوری میں مزید کئی روز لگ سکتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران سے متعلق حتمی معاہدہ ابھی مکمل طور پر طے نہیں ہوا اور جو بھی معاہدہ سامنے آئے گا وہ سابقہ انتظامیہ کے معاہدے سے بالکل مختلف ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم کسی بھی نامکمل یا کمزور معاہدے کے حق میں نہیں ہیں اور اچھی خبر ہی سامنے آئے گی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ کوئی بھی “بُری ڈیل” قبول نہیں کرتے اور جو معاہدہ ہوگا وہ امریکی مفاد کے مطابق ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ معاہدے کے حوالے سے فی الحال مکمل تفصیلات کسی کے پاس موجود نہیں ہیں، اس لیے غیر مصدقہ دعوؤں پر توجہ نہ دی جائے ۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ جوہری معاہدہ خطے کے کئی ممالک کی حمایت حاصل کر رہا ہے تاہم اس نوعیت کے تکنیکی اور پیچیدہ مذاکرات چند گھنٹوں یا دنوں میں مکمل نہیں کیے جا سکتے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ اس وقت خطے کے تقریباً 7 سے 8 ممالک اس حکمتِ عملی کی حمایت کر رہے ہیں اور امریکا اس سمت میں آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے، تاہم یہ عمل مرحلہ وار ہوگا۔
واضح رہے کہ یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان تین ماہ سے جاری کشیدگی اور جنگ بندی کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ امریکی حکام نے اپنے مذاکرات کاروں کو ہدایت دی ہے کہ کسی بھی معاہدے میں جلد بازی نہ کی جائے اور تمام نکات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تاکہ خطے میں دیرپا استحکام ممکن بنایا جا سکے۔