فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے تفصیلی بات ہوئی، ایران کے ساتھ حتمی امن معاہدہ تقریباً طے پا گیا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے تفصیلی بات ہوئی، ایران کے ساتھ حتمی امن معاہدہ تقریباً طے پا گیا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید ترین جنگ اور بحران کے خاتمے کے لیے عالمی سفارت کاری کی تاریخ کا سب سے بڑا اور سنسنی خیز بریک تھرو سامنے آیا ہے۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک تاریخی اور حتمی امن معاہدہ بڑی حد تک طے پا چکا ہے، جس کے تحت مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کا باقاعدہ خاتمہ ہوگا اور عالمی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے تجارتی راستے ’آبنائے ہرمز‘  کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا۔

اس تاریخی امن عمل میں پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر احمد شاہ اور مسلم امہ کے کلیدی رہنماؤں نے مرکزی ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔

اتوار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری ایک خصوصی اور انتہائی اہم پوسٹ میں اس کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ ’ میں اس وقت وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں ہوں، جہاں ہماری ابھی سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان آل سعود، متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمن آل ثانی، قطر کے وزیرعلی الثوادی سے بات ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران امن معاہدے کا مسودہ طے، اعلان آئندہ24 گھنٹوں میں متوقع ،واشنگٹن ٹائمز کا دعویٰ

اس کے علاوہ پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم، اور بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کے ساتھ ایک انتہائی کامیاب اور تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔

’صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اس مشترکہ سفارتی رابطے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ امن سے متعلق مفاہمت کی یادداشت کے تمام امور پر بات چیت کی گئی اور ایک جامع معاہدہ بڑی حد تک فائنل کر لیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس سلسلے میں ان کی اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن (بی بی) نیتن یاہو سے بھی ٹیلیفون پر الگ گفتگو ہوئی ہے جو کہ انتہائی کامیاب رہی۔ معاہدے کے حتمی پہلوؤں اور تکنیکی تفصیلات پر اس وقت بحث جاری ہے جس کا باقاعدہ اعلان جلد کر دیا جائے گا اور اس معاہدے کے سب سے اہم عنصر کے تحت آبنائے ہرمز کو فوری کھولا جائے گا۔

دوسری جانب ترکیہ کے صدارتی دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ترک صدر رجب طیب اردوان نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سمیت ان تمام عالمی رہنماؤں اور امریکی اراکینِ کانگریس کے ساتھ ایک اعلیٰ سطح کی ’ٹیلی کانفرنس‘ کی میزبانی کی، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال اور ایران امن معاہدے کے نفاذ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

 ترک صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ سفارتی عمل کو اس فیصلہ کن مرحلے تک پہنچانے کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ ہمیشہ مسائل کے حل کے لیے جنگ کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمد و رفت کو یقینی بنانے سے نہ صرف خطے میں مستقل استحکام آئے گا بلکہ توانائی کے بحران کا سامنا کرنے والی عالمی معیشت کو بھی بہت بڑا ریلیف ملے گا۔

صدر اردوان نے اعلان کیا کہ اگر ایران کے ساتھ یہ ممکنہ معاہدہ طے پاتا ہے تو ترکیہ اس کے عملی نفاذ کے دوران ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے اور انہیں یقین ہے کہ ایران کے جوہری مسئلے سمیت تمام متنازع امور کو موزوں طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے۔

ادھر پاکستان کے وزیراعظم میاں شہباز شریف نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس عظیم امن کوشش کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے امریکی صدر نے اسلامی ممالک کے رہنماؤں سے جو تاریخی رابطہ کیا ہے وہ قابلِ تحسین ہے۔

 انہوں نے فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے صدر ٹرمپ کے ساتھ اس اہم ترین گفتگو میں پاکستان کی بھرپور اور مؤثر نمائندگی کی ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی اور عالمی امن کے لیے کی جانے والی یہ سفارتی کوششیں انتہائی قابلِ قدر اور تاریخی ہیں۔ وزیراعظم نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ اس عظیم امن مذاکرات کا اگلا اور حتمی دور جلد ہی پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔

ایران بحران، آبنائے ہرمز کی بندش اور پاکستان کا ثالثی کردار

مشرقِ وسطیٰ میں رواں سال فروری سے جاری ایران کی جنگ نے پوری دنیا کو ایک بڑے معاشی اور دفاعی بحران میں مبتلا کر رکھا تھا۔ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی سپلائی کا سب سے بڑا مرکز یعنی ’آبنائے ہرمز‘ اس جنگ کی وجہ سے مکمل طور پر بلاک ہو چکا تھا، جس کے باعث نہ صرف چین بلکہ دنیا بھر کی معیشتیں مفلوج ہو کر رہ گئی تھیں اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی تھیں۔ سپر پاور امریکا اور ایران کے مابین براہِ راست تصادم کی وجہ سے تیسری جنگِ عظیم کا خطرہ منڈلا رہا تھا۔

ایسے سنگین حالات میں پاکستان نے، جس کی سرحدیں ایران سے ملتی ہیں اور جس کے سعودی عرب، یو اے ای اور امریکا کے ساتھ دیرینہ اور مضبوط اسٹرٹیجک تعلقات ہیں، ایک غیر جانبدار اور مضبوط ثالث کا کردار سنبھالا۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنی مضبوط عسکری اور سفارتی حکمتِ عملی کے ذریعے پسِ پردہ واشنگٹن، تہران، ریاض اور انقرہ کے درمیان پل کا کردار ادا کیا، جس کا اعتراف اب خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس سے بیٹھ کر کھلے الفاظ میں کیا ہے۔

تاریخی معاہدے کے اسٹرٹیجک، معاشی اور جغرافیائی اثرات

صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے اس مشترکہ سفارتی معرکے کا اگر اسٹرٹیجک نقطہ نظر سے تجزیہ کیا جائے تو اس کے عالمی سیاست پر درج ذیل دور رس اثرات مرتب ہوں گے

پاکستان کا عالمی قد کاٹھ اور فیلڈ مارشل کا اسٹریٹجک عروج

صدر ٹرمپ کی جانب سے ٹروتھ سوشل پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا نام لے کر ان کا شکریہ ادا کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان کی عسکری قیادت اس وقت مسلم امہ اور عالمی سیاست میں ایک ناگزیر سیکیورٹی اسٹیک ہولڈر بن چکی ہے۔ پاکستان نے خود کو خطے کا سب سے بڑا امن کار ثابت کر دیا ہے۔

عالمی معیشت کا بچاؤ اور آبنائے ہرمز کا کھلنا

آبنائے ہرمز کا کھلنا اس پورے معاہدے کا سب سے بڑا معاشی فائدہ ہے۔ اس سے خام تیل کی ترسیل بحال ہوگی، سپلائی چین کے خطرات ختم ہوں گے اور پوری دنیا بالخصوص پاکستان اور چین جیسے ممالک میں افراطِ زر (مہنگائی) کا زور ٹوٹ جائے گا۔

مسلم امہ کی غیر معمولی یکجہتی

ترکیہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن اور بحرین کے سربراہان کا ایک ساتھ ٹیلی کانفرنس میں بیٹھنا اور ایران کے معاملے پر متفق ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور صدر ٹرمپ نے مسلم ممالک کے مابین پائے جانے والے روایتی اختلافات کو ختم کر کے انہیں ایک مشترکہ امن ایجنڈے پر اکٹھا کر دیا ہے۔

پاکستان کی میزبانی میں اگلے دور کی اہمیت

وزیراعظم شہباز شریف کا یہ اعلان کہ مذاکرات کا اگلا دور پاکستان کی میزبانی میں ہوگا، یہ اشارہ دیتا ہے کہ اس تاریخی معاہدے پر باقاعدہ دستخطوں کی تقریب اسلام آباد میں ہو سکتی ہے، جو پاکستان کو عالمی سفارت کاری کا نیا دارالحکومت بنا دے گی۔

Related Articles