پنجاب حکومت نے گاڑیوں کی رجسٹریشن کے قوانین میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے ضلع کی شرط ختم کردی۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب کابینہ نے موٹروہیکل آرڈیننس 1965 کے سیکشن 24 میں ترمیم کی منظوری دی ہے، جس کے بعد شہری اب اپنی گاڑی کسی بھی ضلع میں رجسٹرڈ کروا سکیں گے۔
اس سے قبل قانون کے تحت گاڑی مالکان اپنے ضلع میں ہی رجسٹریشن کروانے کے پابند تھے۔ ترجمان ایکسائز کے مطابق اس نئی پالیسی کے تحت پورے پنجاب میں ایک سیریز کے تحت رجسٹریشن نمبر جاری کیے جا رہے ہیں، جس سے گاڑیوں کے نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔
دوسری جانب پنجاب حکومت نے گاڑیوں کی کسی دوسرے صوبے میں رجسٹریشن پر پابندی لگا دی۔
اسلام آباد میں گاڑیوں کی رجسٹریشن میں بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث صوبہ پنجاب کے خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا تھا، جس کے بعد ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب نے یہ فیصلہ کیا۔
ایکسائز حکام کے مطابق اسلام آباد میں ٹیکس کی شرح کم ہونے کی وجہ سے پنجاب کے شہریوں کی بڑی تعداد گاڑیاں وفاقی دارالحکومت میں رجسٹر کراتی تھی، جس سے صوبے کے خزانے کو نقصان ہو رہا تھا۔ پابندی کے نتیجے میں ٹوکن ٹیکس میں اضافہ ہونے کی توقع ہے۔
ڈائریکٹر جنرل ایکسائز عمر شیر چٹھہ کا کہنا ہے کہ گاڑی جس صوبے کی سڑکوں پر چلتی ہے، اس کا ٹوکن ٹیکس بھی اسی صوبے میں جمع ہونا چاہیے۔ شہریوں نے حکومت کے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے اور ماہرین کے مطابق اسلام آباد میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی قیمت پنجاب میں زیادہ ہوتی ہے، جو ہاتھوں ہاتھ بکتی ہیں اور اس کی قیمت 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک زیادہ ہو سکتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق صرف 2023 میں 75 ہزار گاڑیاں اسلام آباد میں رجسٹر کی گئی۔