مشرقِ وسطیٰ میں طویل عرصے سے جاری شدید ترین تنازع اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ایک انتہائی اہم اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ کو ختم کرنے کے لیے آج ایک بڑے معاہدے پر دستخط ہونے کا قوی امکان ہے۔
دورۂ بھارت کے دوران امریکی وزیرِ خارجہ کی گفتگو
اپنے اہم دورۂ بھارت کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے انتہائی پُرامید انداز میں کہا کہ ’ہمیں اُمید تھی کہ گزشتہ رات ہی معاہدے سے متعلق کوئی حتمی خبر مل جائے گی، لیکن اب قوی امکان ہے کہ یہ اہم پیش رفت آج ہی کے دن رونما ہو جائے۔
تاہم ہمیں اس وقت تک زیادہ قیاس آرائیوں سے گریز کرنا چاہیے جب تک سب کچھ طے نہیں ہو جاتا‘۔ انہوں نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے مزید کہا کہ پوزیشن بالکل واضح ہے، یا تو ہمارا ایک بہترین اور جامع معاہدہ ہوگا، یا پھر اگر یہ کوشش ناکام ہوئی تو ہمیں اس مسئلے سے کسی اور طریقے سے نمٹنا پڑے گا۔
سفارت کاری کو آخری موقع اور آبنائے ہرمز کی بندش کا حل
مارکو روبیو نے واضح کیا کہ امریکا کسی بھی قسم کے متبادل یا سخت اقدامات پر غور کرنے سے پہلے سفارت کاری کو کامیاب ہونے کا ہر ممکن اور آخری موقع دینا چاہتا ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ خطے میں سمندری تجارت کے تحفظ اور ’آبنائے ہرمز‘ (اسٹریٹ آف ہرمز) کو مستقل طور پر کھلا رکھنے سے متعلق ایک انتہائی مضبوط اور جامع تجویز اس وقت میز پر موجود ہے، جس پر فریقین کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
علاوہ ازیں امریکی وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ ایران کے متنازع نیوکلیئر (ایٹمی) معاملے پر بھی ایک محدود مدت کے مذاکرات کی ٹھوس تجویز تیار کی گئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے ساتھ ساتھ ایران کے نیوکلیئر پروگرام سے متعلق امریکی اور عالمی کوششیں بھی بالآخر کامیاب ہو جائیں گی۔
ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطہ جنگ کی ہولناکیوں کا سامنا کر رہا ہے اور ایران پر امریکا و اسرائیل کے حملوں کے بعد حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہو چکے تھے۔
آبنائے ہرمز جہاں سے دنیا کی تیل کی سپلائی کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے، کی بندش کے خطرات نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ امریکا اور ایران کے درمیان نیوکلیئر ڈیل (جے سی پی او اے) کے خاتمے کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات بدترین سطح پر پہنچ چکے تھے اور اب ایک نئے معاہدے کی خبر خطے کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو سکتی ہے۔
معاہدے کی صورت میں دنیا پر کیا اثرات ہوں گے؟
اگر امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کی پیش گوئی کے مطابق آج یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے، تو یہ موجودہ دہائی کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی ہوگی۔
عالمی معیشت کو ریلیف
آبنائے ہرمز کھولنے کی تجویز پر عملدرآمد سے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں فوری کمی آئے گی، جس سے دنیا بھر میں جاری مہنگائی کا زور ٹوٹ سکتا ہے۔
جنگ کا خاتمہ اور امن
ایران جنگ کے باقاعدہ خاتمے سے مشرقِ وسطیٰ میں استحکام آئے گا، جس کا براہِ راست فائدہ پاکستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک کو ہوگا۔