امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے معاملے پر چین کی مدد نہیں مانگ رہا اور نہ ہی اسے اس حوالے سے کسی معاونت کی ضرورت ہے۔
امریکی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ چینی فریق نے واضح کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کوبند کرنے کے حق میں نہیں چین آبنائے ہرمز میں کسی قسم کے ٹول ٹیکس یا تجارتی گزرگاہ پر دباؤ کے خلاف ہے اور یہی مؤقف امریکا کا بھی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ ایران امریکی داخلی سیاست کو استعمال کرتے ہوئے امریکا کو کسی خراب یا غیر متوازن معاہدے پر مجبور نہیں کر سکتا۔
انہوں نے چین اور تائیوان کے تعلقات پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں چین یہ چاہے گا کہ تائیوان رضاکارانہ طور پر چین میں شامل ہو، چین کی ترجیح ہوگی کہ تائیوان عوامی رائے، ووٹنگ یا ریفرنڈم کے ذریعے چین کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرے۔
مارکو روبیو نے مزید کہا کہ تائیوان کا چین میں انضمام چینی قیادت کے ایجنڈے کا حصہ رہا ہےچین اس عمل کو ری یونیفکیشن قرار دیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ کسی نہ کسی مرحلے پر ضرور ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کا مؤقف یہ ہے کہ اگر اس عمل کو طاقت یا زبردستی کے ذریعے نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ ایک بہت بڑی غلطی ہوگی، خطے میں استحکام اور امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام معاملات مذاکرات اور سیاسی طریقہ کار کے ذریعے حل کیے جائیں۔