سندھ اور پنجاب کے مابین نیشنل ہائی وے کے ٹول ٹیکس میں اضافے کا تنازعہ شدت اختیار کرگیا اور وزیراعلیٰ سندھ، ارکان قومی اسمبلی اور پیپلزپارٹی کے سینٹرز نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق نیشنل ہائی وے کے ٹیکسز بڑھانے پر سندھ کا بڑا اعتراض سامنے آگیا، پیپلزپارٹی کے سینٹر محمد اسلم ابڑو نے نیشنل ہائی وے کو موٹر وے کا نام دے کر ٹیکسز بڑھائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سندھ اور پنجاب میں موٹروے تنازع شدت اختیار کرگیا، وزیراعلیٰ سندھ، ارکان قومی اسمبلی اور پیپلزپارٹی کے سینٹرز نے شدید تحفظات کا اظہار کردیا۔
سینیٹر محمد اسلم ابڑو نے نیشنل ہائی وے کو موٹر وے کا نام دے کر ٹیکسز بڑھائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ غیر منصفانہ ٹول ٹیکس سندھ کو اعتراض ہے، جیکب آباد کے عوام جلد مظاہرہ کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔
سینیٹر اسلم ابڑو نے کہا کہ موٹر وے ٹول ٹیکس کے نام پر اربوں روپے بنائے جارہے ہیں، ملک کو سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا صوبہ بنیادی سہولیات سے محروم ہے، پورے پنجاب میں موٹروے کا ایک جال بچھادیا گیا ہے، ایسا لگتا ہے صرف پنجاب ہی پاکستان ہے، سندھ اور بلوچستان سے بہت بڑی زیادتی ہورہی ہے۔
پیپلزپارٹی کے سینیٹر کا کہنا تھا کہ موٹر وے ٹول ٹیکس کے نام پر اربوں روپے کی لوٹ مار جاری ہے، پرویز رشید سے اس ایشو پر بات ہوئی تو کہا اسے سی پیک میں شامل کریں گے۔ محمد اسلم ابڑو نے سندھ میں شاہراہوں کی حالت زار پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمور سے سہون اور حیدرآباد چلے جائیں ان بڑے ان شہروں میں آج بھی مرکزی شاہراہیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔