ڈاکٹر ماہ نور سے متعلق حکومت کا بڑا فیصلہ، ضروری کارروائی شروع

ڈاکٹر ماہ نور سے متعلق حکومت کا بڑا فیصلہ، ضروری کارروائی شروع

کوئٹہ میں تیزاب گردی کا نشانہ بننے والی نوجوان لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے علاج اور بحالی کے لیے ایک اہم اور بڑا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے معاونِ خصوصی شاہد رند نے باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حکومتِ بلوچستان نے ڈاکٹر ماہ نور کو مزید اور بہترین علاج کے لیے امریکا بھجوانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت اس سلسلے میں تمام سفارتی اور اِنتظامی ضروری کارروائی کا آغاز کر چکی ہے اور ڈاکٹر ماہ نور کے بیرونِ ملک علاج کے تمام اخراجات حکومتِ بلوچستان خود برداشت کرے گی۔

کراچی کے نجی اسپتال میں موجودہ علاج کی تفصیلات

معاونِ خصوصی شاہد رند کے مطابق، ڈاکٹر ماہ نور ناصر اس وقت کراچی کے ایک معروف نجی اسپتال میں زیرِ علاج ہیں، جہاں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم ان کی دیکھ بھال کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ڈاکٹر ماہ نور کیس پیچیدہ ہوگیا، حکومت کی بڑی کارروائی

ان کا کراچی کے اسی اسپتال میں مزید 1 ہفتے تک علاج جاری رہے گا تاکہ ان کی حالت کو سفر کے قابل (اسٹیبل) بنایا جا سکے اور زخموں کی ابتدائی سرجری مکمل کی جا سکے۔

 جیسے ہی کراچی میں علاج کا یہ مرحلہ مکمل ہوگا اور سفارتی دستاویزات تیار ہوں گی، انہیں فوری طور پر امریکا روانہ کر دیا جائے گا۔

ہولناک واقعے اور ملزم کی ہلاکت

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں کوئٹہ کے تاریخی سنڈیمن اسپتال (سول اسپتال) کے شعبہ جنرل سرجری یونٹ میں ڈیوٹی کے دوران ایک انتہائی افسوسناک اور دلخراش واقعہ پیش آیا تھا، جہاں ایک سنگدل شخص نے لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب پھینک دیا تھا۔

اس وحشیانہ حملے کے بعد ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا، تاہم پولیس کی جانب سے کی جانے والی ناکہ بندی اور تعاقب کے دوران ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا تھا۔

وارڈ بوائے عبدالرزاق کی بہادری اور موجودہ صورتحال

واقعے کے دوران جہاں ڈاکٹر ماہ نور شدید متاثر ہوئیں، وہی اسپتال کے ایک فرض شناس وارڈ بوائے عبدالرزاق ترکئی نے اپنی جان پر کھیل کر لیڈی ڈاکٹر کو بچانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں:ڈاکٹر ماہ نور کا واقعہ کیسے پیش آیا ؟ بچانے والے عبدالرزاق نے پہلی بار تفصیلات بیان کر دیں

اس کوشش کے دوران وارڈ بوائے عبدالرزاق ترکئی بھی تیزاب گرنے سے شدید زخمی ہو گئے تھے۔ وہ کوئٹہ کے اسپتال میں زیرِ علاج رہے جہاں ان کی حالت اب خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے، جبکہ لیڈی ڈاکٹر ماہ نور کو زخموں کی سنگینی کے باعث فوری طور پر کراچی منتقل کر دیا گیا تھا۔

اسپتالوں میں ڈاکٹروں کا تحفظ اور تیزاب گردی کا ناسور

پاکستان میں خواتین پر تیزاب پھینکنے کے واقعات اور بالخصوص کام کی جگہوں (ورک پلیس) پر خواتین اِفسران اور ڈاکٹروں کو ہراساں یا تشدد کا نشانہ بنانے کے معاملات طویل عرصے سے ایک سنگین معاشرتی چیلنج رہے ہیں۔

کوئٹہ کا سنڈیمن اسپتال بلوچستان کا مصروف ترین طبی مرکز ہے، جہاں سیکیورٹی کے ناقص انتظامات کے باعث پہلے بھی ڈاکٹروں پر تشدد کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔

اس واقعے نے ایک بار پھر ملک بھر کے مڈل کلاس اور پڑھے لکھے طبقے بالخصوص ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جس کے بعد اسپتالوں کی سکیورٹی اور تیزاب کی کھلی فروخت پر پابندی کے مطالبات نے دوبارہ زور پکڑ لیا ہے۔

حکومتی ردِعمل اور احسن فیصلہ

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے ڈاکٹر ماہ نور کو سرکاری خرچ پر امریکا بھیجنے کا فیصلہ نہ صرف متاثرہ خاندان کے لیے ایک بڑی راحت ہے بلکہ یہ صوبے کے پڑھے لکھے طبقے کو یہ پیغام دیتا ہے کہ حکومت اپنے مخلص پیشہ ور افراد کے ساتھ کھڑی ہے۔

مزید پڑھیں:چار ماہ کی غفلت والی کوئی بات نہیں، خان صاحب کی صحت پر سیاست نہ کریں : رانا ثنا اللہ

تیزاب کے زخموں کے لیے امریکا میں جدید ترین ‘اسکن گرافٹنگ’ اور ‘پلاسٹک سرجری’ کی سہولیات موجود ہیں جو ڈاکٹر ماہ نور کو ایک نئی زندگی دینے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

وارڈ بوائے عبدالرزاق کی عظیم قربانی

اس پورے واقعے میں وارڈ بوائے عبدالرزاق ترکئی کا کردار انسانیت کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں لوگ حادثے کے وقت ویڈیوز بنانے میں مصروف ہو جاتے ہیں، عبدالرزاق نے اپنی جان اور صحت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے خاتون ڈاکٹر کو بچایا۔

حکومت کو چاہیے کہ ڈاکٹر ماہ نور کے ساتھ ساتھ عبدالرزاق ترکئی کی بہادری کو بھی قومی سطح پر سراہے اور ان کے لیے سول ایوارڈ اور مالی امداد کا اعلان کرے۔

Related Articles