میٹا کا نیا تجربہ، ملازمین کی سرگرمیاں ریکارڈ کر کے اے آئی کو سکھانے کا فیصلہ

میٹا کا نیا تجربہ، ملازمین کی سرگرمیاں ریکارڈ کر کے اے آئی کو سکھانے کا فیصلہ

 ٹیکنالوجی کمپنی میٹا پلیٹ فارم نے مصنوعی ذہانت کو مزید بہتر بنانے کے لیے ایک نیا اور غیر معمولی قدم اٹھا لیا ہے جس کے تحت ملازمین کے کمپیوٹر استعمال کرنے کے انداز کو ریکارڈ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں :سوشل میڈیا صارفین کیلئے بڑی خبر، میٹا کا اہم ویب سائٹ بند کرنے کا اعلان

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کمپنی اپنے ملازمین کے سسٹمز میں ایک خصوصی ٹریکنگ سافٹ ویئر انسٹال کر رہی ہے جو ماؤس کی حرکت، کلکس اور کی بورڈ کے استعمال کا ڈیٹا جمع کرے گا۔

رپورٹ کے مطابق یہ اقدام ایسے جدید اے آئی ماڈلز کی تیاری کا حصہ ہے جو مستقبل میں خودکار انداز میں دفتری اور روزمرہ کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

میٹا کی دستاویزات کے مطابق یہ سافٹ ویئر مخصوص ایپس اور ویب سائٹس پر فعال ہوگاجبکہ بعض مواقع پر اسکرین کے اسنیپ شاٹس بھی لیے جائیں گے تاکہ صارف کے عمل کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں :سوشل میڈیا سیفٹی میں نیا قدم، میٹا کا “لمیٹڈ کنٹینٹ” فیچر متعارف

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ڈیٹا خاص طور پر ’میٹا سپر انٹیلی جنس لیبز‘کی تحقیق میں استعمال ہوگاجہاں ایسے ماڈلز تیار کیے جا رہے ہیں جو کمپیوٹر کو انسانوں کی طرح استعمال کر سکیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اے آئی اب بھی کچھ بنیادی کاموں میں مکمل مہارت حاصل نہیں کر سکی جیسے ڈراپ ڈاؤن مینیو سے درست انتخاب یا کی بورڈ شارٹ کٹس کا مؤثر استعمال اور یہی خلا پُر کرنے کے لیے یہ ڈیٹا مددگار ثابت ہوگا۔

میٹا کے ترجمان اینڈی اسٹون نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین کے روزمرہ کام کرنے کا انداز اے آئی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :سوشل میڈیا صارفین کیلئے بڑی خبر، میٹا کا اہم ویب سائٹ بند کرنے کا اعلان

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جمع کیا جانے والا ڈیٹا ملازمین کی کارکردگی جانچنے کے لیے استعمال نہیں ہوگا بلکہ صرف اے آئی کی تربیت تک محدود رہے گا، جبکہ حساس معلومات کے تحفظ کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔

کمپنی کے مطابق اگر مستقبل میں ایسے اے آئی ایجنٹس تیار کرنا ہیں جو انسانوں کی طرح کمپیوٹر استعمال کر سکیں تو ضروری ہے کہ انہیں حقیقی انسانی رویے اور کام کرنے کے طریقے سکھائے جائیں

editor

Related Articles

Leave a Reply