سرکاری ملازمین اور حکومت کے مابین مذاکرات کامیاب اور حکومت نے ملازمین کے مطالبات مانتے ہوئے ملازمین کئ جانب سے پیش کیئے گئے مطالبات بالشمول 30 فیصد الاؤنس ، ہاؤس رینٹ، میڈیکل اور ہائیرنگ میں بھی اضا فہ کی یقین دہانی کروائی ہے۔
تفصیلات کے مطابق حکومت اور سرکاری ملازمین کے مابین احتجاج کے بعد کامیاب مذاکرات ہوئے ہیں اور حکومت کی جانب سے وزیر اعظم کےمشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے سرکاری ملازمین کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کیئے ہیں۔
رانا ثنااللہ نے سرکاری ملازمین کے قائدین سے کامیاب مذاکرات کے بعد کہا کہ سرکاری ملازمین اور حکومتی کمیٹی کے درمیان مذاکرات سے متعلق شرکا کو اعتماد میں لیں گے۔ سرکاری ملازمین کے رہنما رحمان باجوہ کے مطابق ہمارے کچھ مطالبات مان لیے گئے ہیں اور
کہا گیا کہ کچھ مطالبات بجٹ پر چھوڑ دیں۔میرا واضح موقف تھا کہ ٹیکس ریبیٹ کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے۔
ٹیکس ریبیٹ کا نوٹیفکیشن واپسی کا مطالبہ منظور کر لیا گیا ہے۔ 30٪ الاؤنس ہمیں ملے گا۔مطالبہ مان لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہاؤس رینٹ،میڈیکل اور ہائیرنگ میں بھی اصافہ ہو گا۔ دوران سروس فوت ہو جانے والے ملازمین کے بچوں کو بھرتی کا معاملہ کورٹ میں ہے۔
رانا ثناءاللہ نے کامیاب مذاکرات کے بعد کہا کہ جس طرح چلتے خوشحال ملک کو تباہ کیا گیا اور ملک ڈیفالٹ کی صورتحال پر پہنچ چکا تھا ۔انکا کہنا تھا کہ اب ایک سال سے ملک کی حالت بہتر ہوئی ہے اوروزیراعظم کو معلوم ہے آپ کے شب و روز کے معاملات مشکلات کا شکار ہیں ، انہوں نے کہا کہ آپ کے مطالبات جائز ہیں لیکن اپ لوگ اس وقت کے حالات کو بھی مد نظر رکھیں۔
رانا ثناء اللہ نے سرکاری ملازمین سے خطاب میں کہا کہ تھوڑی دیر پہلے اپ کی قیادت کو گھر بلایا تھا اور آپ کے تمام مسائل کو سمجھا ہے ، رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ہمارے درمیان جو سمجھوتہ ہوا ہے وزیراعظم اس کو پورا کریں گے ۔ آپ کے کچھ مطالبات کچھ اب پورے ہوں گے اور کچھ بجٹ کے وقت ہوں گے۔
رانا ثنا ء اللہ نے کہا کہ تمام ملازمین ہمارے بھائی اور بہنیں ہیں اورہمیں گوارہ نہیں کہ اپ یہاں ا کر مشکلات کا سامنا کریں ۔
وزیراعظم نواز شریف اور ن لیگ کی سیاست خدمت کی سیاست ہے ۔ انکا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف کی سیاست کی خدمت کی سیاست ہے اوروزیر اعظم کے بس میں ہو تو ان کا کہنا ہے کہ ملازمین کے سب مطالبات منظور کروں۔