مولانا فضل الرحمان کی’ٹی ٹی اے پی‘ میں شمولیت سے متعلق جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں، اخونزادہ حسین یوسفزئی

تحریک تحفظ آئین پاکستان( ٹی ٹی اے پی ) کے ترجمان اخونزادہ حسین یوسفزئی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی اپوزیشن اتحاد میں شمولیت کی مبینہ شرائط سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کیا مولانا فضل الرحمان پی ٹی آئی کے اپوزیشن اتحاد میں شامل ہوں گے؟

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اخونزادہ حسین یوسفزئی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن اتحاد کی قیادت سنبھالنے کے لیے کوئی پیشگی شرط نہیں رکھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جانتی ہے کہ آئندہ چند دنوں میں اپوزیشن کا گرینڈ الائنس تشکیل دے دیا جائے گا۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ الیکٹرانک میڈیا نے ’مولانا فضل الرحمان کے بارے میں جھوٹی خبریں پھیلائی ہیں‘، انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ دعوے بے بنیاد ہیں کہ انہوں نے ٹی ٹی اے پی میں شمولیت کے لیے 3 شرائط رکھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن اتحاد کی قیادت کا مطالبہ نہیں کیا اور نہ ہی انہوں نے کے پی حکومت میں حصہ مانگا۔ اسی طرح اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں محمود خان اچکزئی اور حال ہی میں حکومت مخالف اتحاد میں شامل ہونے والے شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سے خطاب کیا۔

مزید پڑھیں:حکومت سے مذاکرات ختم، پی ٹی آئی کا اپوزیشن اتحاد بنانے کا اعلان

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ہماری مشاورت جاری ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک کے عوام موجودہ صورتحال کا حل چاہتے ہیں۔ محمود خان اچکزئی نے اعلان کیا کہ اتحاد نے ملک کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک قومی کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ہم قومی مسائل کے حل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ ہم سب کو اس کانفرنس میں مدعو کرتے ہیں، جو 26 اور 27 فروری کو 2 دن تک جاری رہے گی، جس کے دوران قومی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ادھر جمعیت علمائے اسلام جے یو آئی (ف) کے ترجمان اسلم غوری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جے یو آئی (ف) کے اپوزیشن اتحاد میں شامل ہونے کی خبروں سے کچھ حلقے پریشان ہیں۔ جو لوگ پریشان ہیں وہ بے بنیاد خبریں پھیلا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ملک بھر میں احتجاجی تحریک شروع کرنے سے متعلق اپوزیشن اتحاد کا بڑا فیصلہ

ترجمان نے کہا کہ قیادت کے عہدے کے بغیر بھی مولانا فضل الرحمان اپوزیشن اتحاد میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، مولانا فضل الرحمان اب کسی عہدے پر منحصر نہیں ہیں اور ان کی شمولیت سے صرف اپوزیشن مضبوط ہوگی۔

انہوں نے کہاکہ ’ہم آہستہ آہستہ ایک عظیم اتحاد بنانے کی طرف بڑھ رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ اس طرح کے بیانات اپوزیشن جماعتوں کے مابین اختلافات کو کم کرنے میں مدد کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں تقریر کے بعد مولانا فضل الرحمان کو بدنام کرنے کی مہم جاری ہے۔ واضح رہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں نے جمعہ کو اہم اجلاس منعقد کرکے حکومت مخالف اتحاد کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *