نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم آف پاکستان (پی کے سی ای آر ٹی) نے پاکستانی نیٹ ورکس کو وی پی این سے سیکیورٹی خطرات سے خبردار کیا ہے اور تمام وزارتوں، ڈویژنز اور اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مضبوط بنائیں۔
نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم آف پاکستان کے مطابق پالو آلٹو اور سونک وال جیسی کمپنیوں کی جانب سے فراہم کی جانے والی سائبر سیکیورٹی اور ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) سروسز میں آنے والی رکاوٹوں کی وجہ سے پاکستانی نیٹ ورکس کو سخت سیکیورٹی خطرات کا سامنا ہے۔
حالیہ نتائج سے پالو آلٹو کے ویب مینجمنٹ انٹرفیس میں خامیوں کا انکشاف ہوا ہے ، جس سے ہیکرز کی ممکنہ غیر مجاز رسائی کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
اس کے جواب میں نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم آف پاکستان نے تمام وزارتوں، ڈویژنز اور اداروں کو ایک سخت ایڈوائزری جاری کی ہے، جس میں ان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مضبوط بنائیں۔
ایڈوائزری کے مطابق پالو آلٹو نیٹ ورکس کے ویب مینجمنٹ انٹرفیس میں سیکیورٹی کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ پالو آلٹو اور سونک وال کا استعمال کرنے والے اداروں کے لیے سنگین خطرات ہوسکتے ہیں اور نیٹ ورکس میں سیکیورٹی خامیاں غیر متعلقہ رسائی کا باعث بن سکتی ہیں۔
ایڈوائزری کے مطابق حملہ آور بغیر کسی لاگ ان یا اجازت کے سسٹم تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ حفاظتی اقدامات نہ کرنے والے اداروں کا ڈیٹا چوری ہوسکتا ہے اور حفاظتی اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے ادارے نیٹ ورک سیکیورٹی ڈیوائسز پر اپنا کنٹرول کھو سکتے ہیں۔
ایڈوائزری میں سیکیورٹی خامیوں کے خلاف فوری کارروائی کی سفارش کی گئی ہے جبکہ اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ پالو آلٹو نیٹ ورکس اور سونک وال کے لیے سیکیورٹی پیچز پر عمل درآمد کریں۔
فائر والز اور وی پی اینز کو تازہ ترین فرم ویئر ورژن میں اپ ڈیٹ کیا جانا چاہیے، جبکہ مینجمنٹ انٹرفیس تک رسائی صرف قابل اعتماد آئی پی پی ایڈریسز تک محدود ہے۔ ایڈوائزری میں سفارش کی گئی ہے کہ غیر مجاز رسائی کو روکنے کے لیے ایک ملٹی فیکٹر تصدیقی نظام اپنایا جانا چاہیے۔