صرف 35 فیصد حمایت ، ٹرمپ کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی،امریکہ میں ہلچل

صرف 35 فیصد حمایت ، ٹرمپ کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی،امریکہ میں ہلچل

 امریکی سیاست میں ایک بار پھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت کے حوالے سے بحث زور پکڑ گئی ہے کیونکہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ان کی مقبولیت اپنی سیاسی زندگی کی کم ترین سطح کے قریب ہی برقرار ہے ۔

صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں اور روزمرہ اخراجات کے حوالے سے عوامی تشویش میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان امریکی رائے عامہ میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی علامت ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق مئی کے وسط کے بعد کیے گئے ایک تازہ جائزے میں سامنے آیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں معمولی بہتری کے باوجود مجموعی طور پر وہ صرف 35 فیصد کے قریب ہے جو ان کے سیاسی دور کی کم ترین سطح کے آس پاس شمار کی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے یہ شرح34 فیصد تک گر چکی تھی جو اب معمولی اضافے کے بعد بھی نمایاں تبدیلی پیدا نہیں کر سکی۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران امریکا جنگ ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں مزید کمی

رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکہ کے بڑے طبقے کو خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں پٹرول اور توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جس کے اثرات براہ راست گھریلو بجٹ پر پڑیں گے۔ اسی طرح ایک بڑی اکثریت، یعنی تقریباً ستر فیصد امریکی شہری، زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے نمٹنے کے حوالے سے صدر ٹرمپ کی کارکردگی سے غیر مطمئن ہیں۔

مہنگائی اور روزمرہ اخراجات جیسے معاشی مسائل کسی بھی حکومت کی مقبولیت پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔ اس وقت امریکی عوام کی بڑی تعداد بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اضافے کو ایک سنگین مسئلہ سمجھ رہی ہے جس کی وجہ سے صدر کی حمایت میں واضح بہتری نہیں آ پا رہی۔ مجموعی طور پر یہ صورتحال وائٹ ہاؤس کے لیے ایک سیاسی چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔

editor

Related Articles