پاکستان دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے کہا ہے کہ ’پاکستان نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے ریمارکس کا نوٹس لیا ہے، بلوچستان میں احتجاج کرنے والے عام مظاہرین نہیں بلکہ دہشتگرد تنظیموں کے کارکن تھے۔ امریکی ایوان نمائندگان میں پیش کیا جانے والا بل امریکی انتظامیہ کی پالیسی نہیں ہے۔
جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی ہدایت پر نمائندہ خصوصی محمد صادق نے کابل کا دورہ کیا، 21 مارچ کو محمد صادق کی افغان عبوری وزیر خارجہ سے ملاقات ہوئی، پاکستان اور افغانستان نے اعلیٰ سطح پر رابطے برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایمبیسیڈر محمد صادق کی افغان عبوری وزیر تجارت سے بھی ملاقات ہوئی، ایمبیسیڈر محمد صادق نے دورہ پاکستان کے بعد نائب وزیراعظم کو بریفنگ بھی دی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ادارے کی پریس ریلیز خودمختار ریاست کو دہشتگردی کے خلاف سپورٹ فراہم کرنے کے برعکس دہشتگردوں کو تقویت دیتی ہے، پاکستان میں بھارتی دہشتگردی پر ڈوزئیر اقوام متحدہ سے بھی شئیر کیے جا چکے ہیں، پاکستان میں چینی شہریوں کے تحفظ پر دونوں ملکوں کے رابطے جاری ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ سٹار لنک اور ایکس کا معاملہ الگ الگ اور تکنیکی ہے۔ پاکستان نے بلوچستان میں چینی فوجی دستے کی تعیناتی کی خبریں مسترد کر دیں، بلوچستان میں چینی شہریوں کے تحفظ کے لیے چینی فوجی دستے کی تعیناتی کی بات سراسر بے بنیاد ہے۔
ایک اور سوال کےجواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ معاون خصوصی طارق فاطمی کا دورہ امریکا سرکاری ہے، ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے مقبوضہ جموں کشمیر میں کبھی بھارتی آئین کو تسلیم نہیں کیا، ایسی کسی ادارے پر تبصرہ نہیں کر سکتا جو بھارتی آئین کے تابع ہو۔
ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان سے اے سی سی ہولڈر افغان شہریوں کے ملک بدری کی تاریخ میں کوئی تبدیلی نہیں، افغانستان کے ساتھ رابطے اور بات چیت جاری ہے، امریکا کی جانب سے حال ہی میں پاکستانی تجارتی اداروں کو یکطرفہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔
ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں ٹی ٹی پی کو بڑا خطرہ قرار دیے جانے کا خیرمقدم کرتے ہیں، امریکا یا کسی بھی ملک کے ساتھ تعلقات افغانستان کا اپنا معاملہ ہے، بگرام ائیربیس کے حوالے سے تمام اطلاعات محض قیاس آرائیاں ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان امریکی ایوان نمائندگان میں متعارف کروائے گئے بل سے آگاہ ہے، پاکستان آزادی اظہار، انسانی حقوق اور آئین پر عملدرآمد کرتا ہے، ایوان نمائندگان میں آنے والا بل ایک رکن کا بل ہے جسے ابھی کئی مراحل سے گزرنا ہے۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ مجوزہ بل امریکی انتظامیہ کی پالیسی نہیں ہے۔
پاکستانی صحافیوں کے دورہ اسرائیل سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ حکومت پاکستان پاکستانی صحافیوں کے دورہ اسرائیل کی اطلاعات سے آگاہ ہے، پاکستان کا پاسپورٹ اسرائیل کے لیے کارآمد ہے نہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہری شہریت کے حامل شہری کسی دوسرے پاسپورٹ پر سفر کر سکتے ہیں، تکنیکی طور پر پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل کا سفر ممکن ہی نہیں ہے۔