بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جائیدادوں کے تحفظ کے لیے ایک نیا قانونی نظام نافذ کر دیا گیا ہے جس کے تحت ملک بھر میں خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی تاکہ املاک سے متعلق تنازعات اور غیر قانونی قبضوں کے مقدمات کو تیزی اور مؤثر طریقے سے نمٹایا جا سکے۔
اعلامیے کے مطابق “قانون برائے تحفظ املاک اوورسیز پاکستانی ۲۰۲۴” کے تحت اوورسیز پاکستانیوں کو ان کی جائیدادوں کے مکمل قانونی حقوق فراہم کیے جائیں گے اور ان کے مقدمات کے لیے علیحدہ عدالتی ڈھانچہ تشکیل دیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے اعتماد کو بحال کرنا اور ان کے اثاثوں کو محفوظ بنانا ہے۔
نئے قانون کے تحت ملک کے مختلف حصوں میں خصوصی عدالتیں کام کریں گی جو صرف اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں سے متعلق کیسز کی سماعت کریں گی، اسلام آباد میں ایسی عدالت پہلے ہی کام شروع کر چکی ہے جبکہ پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں بھی اس نظام کو مرحلہ وار توسیع دی جا رہی ہے۔
قانون کے مطابق بیرونِ ملک مقیم پاکستانی عدالتوں میں اپنی شکایات اور مقدمات کے لیے الیکٹرانک فائلنگ کا نظام استعمال کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ عدالتی کارروائی میں شرکت کے لیے ویڈیو لنک کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے تاکہ وہ بغیر پاکستان آئے اپنے کیس کی پیروی کر سکیں۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ان عدالتوں کو مقدمات کے فیصلے کے لیے مقررہ مدت دی گئی ہے، جس کے مطابق ہر کیس کا فیصلہ نوے دن کے اندر سنانا لازم ہوگا۔ اپیل کی صورت میں ہائی کورٹ کو بھی نوے دن کے اندر فیصلہ کرنا ہوگا تاکہ انصاف کی فراہمی میں تاخیر نہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اس قانون کے ذریعے اوورسیز پاکستانیوں کو درپیش مسائل جیسے غیر قانونی قبضہ، ملکیتی تنازعات اور جعل سازی جیسے مسائل کو کم کیا جائے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے حقوق محفوظ ہوں گے بلکہ ملک میں سرمایہ کاری کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا۔
یہ قانون اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ ریاست کے تعلق کو مضبوط بنانے اور انہیں ہر ممکن قانونی سہولت فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔