ایک سال کی مدت میں اربوں روپے خسارے والی پی آئی اے منافع بخش کیسے بن گئی؟

پی آئی اے کا سال 2023 میں خالص خسارہ 75 ارب روپے تھا تاہم پی آئی اے کے مطابق سال 2024 میں ائیر لائنز نے 26 ارب روپے کا خالص منافع کمایا۔

تفصیلات کے مطابق نشریاتی ادارے بلومبرگ نےرپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کے تحت قومی ایئر لائنز کی فروخت سے قبل اس کا سالانہ منافع ایک بڑی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے ۔ بلومبرگ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ آڈٹ شدہ مالیاتی گوشواروں کے مطابق پی آئی اے نے دسمبر 2024 میں ختم ہونے والے مالی سال کے دوران فی شیئر 5.01 روپے آمدن حاصل کی۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال پی آئی اے کی نجکاری کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد وفاقی وزیر نجکاری عبد العلیم خان کا کہنا تھا کہ جب تک پی آئی اے کی بیلنس شیٹ مکمل طور پر صاف نہیں کی جاتی، کوئی سنجیدہ سرمایہ کار آگے نہیں آئے گا۔ ماہرین کے مطابق پی آئی اے کی جانب سے اربوں روپے خالص منافع کمانا اس لیے مشکل نہیں رہا کہ حکومت نے اس کے ذمے کئی سو ارب روپے کے قرضے اپنے ذمے لے لیے ہیں۔

پی آئی اے نجکاری اور اس کے مالیاتی معاملات پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق پی آئی اے کی جانب سے اربوں روپے خالص منافع کمانا اس لیے مشکل نہیں رہا کہ حکومت نے اس کے ذمے کئی سو ارب روپے کے قرضے اور ان پر سود کی ادائیگی اپنے ذمے لے لی، جس کے بعد اس کی بیلنس شیٹ بالکل کلین ہو گئی کہ جس نے ائیر لائنز کو منافع بخش بنا دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ جب حکومت کئی سو ارب روپے قرض اور اس پر سود کی ادائیگی کو اپنے کھاتے میں لے لی گی تو اس کے بعد ائیر لائنز کا منافع بخش ہونا حیران کن نہیں رہ جاتا۔

پاکستان کے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کے ذمے 850 ارب روپے کا قرض ہے جس کا بڑا حصہ حکومت نے اپنے ذمہ لے لیا اور اس کے بعد اس پر سود کی ادائیگی بھی حکومت کے کھاتے میں چلی گئی تو اس کے بعد اس کے آپریشنل منافع بخش بننے میں کوئی مشکل نہیں۔

انھوں نے بتایا کہ حکومت نے پی آئی اے کے اثاثے بھی اپنے ذمے لیے ہیں اور اس پر قرض بھی، تو اس کے بعد اس کا منافع بخش ہونا بنتا ہے۔ سال 2023 کے پہلے نو ماہ کے پی آئی اے کے مالی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے 58 ارب روپے سود کی ادائیگی پر خرچ کیے تھے۔

حکومت نے پی آئی اے کو قرض اور اس پر سود سے نجات کے لیے کیا اقدامات کیے؟پی آئی اے نجکاری کے لیے کوششیں گزشتہ کئی برس سے جاری ہیں تاہم ائیر لائنز پر قرضوں اور اس پر سود کی ادائیگی کے بوجھ کی وجہ سے اس کی نجکاری ممکن نہیں ہو سکی۔

یاد رہے کہ جولائی 2023 میں، پی آئی اے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے ایئر لائنز کی تنظیم نو کے ایک منصوبے کی منظوری دی جس کے تحت ایک نئی ہولڈنگ کمپنی قائم کی جائے گی تاکہ پرانے قرضے، غیر ہوابازی اثاثے اور موجودہ پی آئی اے سی ایل کے ذیلی ادارے (پی آئی اے-آئی ایل، سکائی رومز لمیٹڈ، اور سیبر ٹریول نیٹ ورک) برقرار رکھے جائیں جبکہ خود ایئر لائنز اس کی مکمل ملکیتی ذیلی ادارہ ہو گی جو ہوابازی کے اثاثے اور متعلقہ واجبات اپنے پاس رکھے گی۔

جب پی آئی اے میں اصلاحات اور اس کی سروس میں بہتری کے نہ ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو قومی ایئرلائنز کے ترجمان نے بتایا کہ اگر ائیر لائنز پر مسافر سفر کر رہے ہیں اور یہ آپریشنل منافع کما رہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ مسافر اس پر اعتماد کر رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پی آئی اے کو ڈائریکٹ فلائٹس میں دوسری ائیر لائنز پر برتری حاصل ہے اس لیے کمپنی بہتر پرفارم کرتی ہے۔ پی آئی اے کے منافع بخش ہونے کے بعد اس کی نجکاری ممکن ہو گی؟ایویایشن کے ماہرین کا کہنا ہے کہ 2024 میں جس طرح خالص منافع دیکھا گیا، وہ نمبرز کی حد تو ٹھیک ہے لیکن سرمایہ کار اور اس کے پروفیشنل ایڈوائزر اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ یہ منافع کیسے حاصل کیا گیا۔

’اس کے ساتھ ائیر لائنز میں کوئی ایسی اصلاحات تو ہوئی نہیں کہ جن کی بنیاد پر کہا جا سکے کہ اس کی سروس بہتر ہو چکی۔‘

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *