سینئر صحافی پارس جہانزیب نے کہا ہے کہ میں پوری ذمہ داری سے خبر دے رہی ہوں کہ عمران خان کے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے۔
سینئر صحافی پارس جہانزیب نے کہا ہے کہ اعظم سواتی نے ہی اپنی ٹویٹ کے ذریعے تحریک انصاف کے تعلقات خراب کروائے لیکن اب وہ ایسے دعوے کر رہے ہیں جن کی تصدیق یا تردید ممکن نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں کے الزامات کی ٹائمنگ بڑی اہم ہے لگتا ہے سوائے چند کو چھوڑ کر سب عمران خان سے دغا کر چکے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ مذاکرات ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکے کیونکہ عمران خان کے جیل میں رہنے سے ہی پی ٹی آئی رہنماؤں کو فائدہ ہے۔
پارس جہانزیب نے کہا کہ میں پوری ذمہ داری سے خبر دے رہی ہوں کہ عمران خان کی رہائی کے لئے مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے، امریکی وفد کی پاکستان آمد کے بعد ہی مذاکرات کا دروازہ کھلا ہے، عمران خان نہ ہی کوئی ڈیل کرنا چاہتے ہیں نہ ہی کوئی ایسا کام جس سے ڈیل کا تاثر جائے، ان کو بڑی آفر کی جا رہی ہیں لیکن عمران خان اس کے بدلے بڑی یقین دہانیاں چاہتے ہیں۔
جیسے ہی دونوں جانب سے گارنٹیاں دی جائیں گی معاملات آگے بڑھ جائیں گے، عمران خان سے مذاکرات کی وجہ سے ن لیگ کی صفوں میں پریشانی بڑھ چکی ہے، اسی لئے نواز شریف نے سیاست میں سرگرم ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔