اسلام آباد میں پاک بحریہ کے نیول ہیڈکوارٹرز میں منعقد ہونے والی کمانڈ اینڈ اسٹاف کانفرنس اختتام پذیر ہو گئی، اس اہم اجلاس کی صدارت چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کی، جبکہ اجلاس میں پرنسپل اسٹاف آفیسرز اور فیلڈ کمانڈرز نے شرکت کی۔
کانفرنس کے دوران نیول چیف نے بحری شعبے میں روایتی اور غیر روایتی چیلنجز کے مقابلے کے لیے مستقل جنگی تیاری برقرار رکھنے پر زور دیا، انہوں نے کہا کہ بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے تناظر میں بالخصوص مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورت حال کے باعث بحری میدان میں نئے خطرات ابھر رہے ہیں، جن میں بحری آمد و رفت کی آزادی، اہم سمندری تجارتی راستوں یعنی سی لائنز آف کمیونیکیشن کی ممکنہ رکاوٹ اور اسٹریٹجک بحری گزرگاہوں پر غیر یقینی صورتحال شامل ہے۔
ایڈمرل نوید اشرف نے اس بات پر زور دیا کہ جدید اور انتہائی ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کا حصول پاک بحریہ کے لیے ایک ناگزیر اسٹریٹجک ضرورت ہے تاکہ موجودہ اور مستقبل کے چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ بحری دفاعی صلاحیتوں میں مسلسل بہتری قومی سلامتی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے،انہوں نے مزید کہا کہ پاک بحریہ خطے میں امن، استحکام اور بحری سلامتی کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے اور اپنی موجودگی کے ذریعے بین الاقوامی بحری برادری کو تحفظ کا احساس فراہم کر رہی ہے، خاص طور پر خلیج عمان کے خطے میں پاک بحریہ کی موجودگی اس یقین دہانی کا حصہ ہے۔
اجلاس میںمعرکہ حق کے دوران دی گئی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا، نیول چیف نے اس تاریخی کامیابی کو قومی اتحاد اور بیرونی جارحیت کے خلاف فولادی عزم کی علامت قرار دیااور کہا کہ کسی بھی بیرونی جارحیت کا آہنی ہاتھوں سے جواب دیا جائے گا ۔
کانفرنس میں آپریشنل تیاریوں، جاری منصوبوں اور آئندہ کے اہم اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، شرکاء نے بدلتے ہوئے علاقائی بحری حالات کے مطابق بحری حکمت عملی کو ہم آہنگ کرنے اور مختلف شعبوں میں آپریشنل تیاریوں کو مزید مؤثر بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔