آزاد کشمیر پولیس نے راولاکوٹ میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے لیے کام کرنے والے ایک ایجنٹ کو گرفتار کر لیا ہے جو حساس تنصیبات اور عوامی مقامات کی جاسوسی میں ملوث تھا۔
انسپکٹر جنرل پولیس آزاد کشمیر، کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک نے مظفرآباد میں ایک اہم پریس کانفرنس بتایا کہ گرفتار ایجنٹ عرفان راولاکوٹ میں فوجی تنصیبات، اسکولوں اور دیگر حساس مقامات کی تصاویر اور ویڈیوز ریکارڈ کر رہا تھا۔
ملزم کے قبضے سے ملنے والے موبائل ڈیٹا سے ثابت ہوا ہے کہ وہ براہِ راست بھارت میں بیٹھے اپنے ہینڈلرز کے رابطے میں تھا۔ ملزم کو بھارت سے ملنے والے پیغامات میں ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ایسی مساجد کی ویڈیوز بنائے جہاں شام کو افطاری کا اہتمام ہوتا ہے۔ اسے مسجد کے اندر، باہر اور گلیوں کی مکمل ویڈیو کلپس کے ساتھ ساتھ لائیو لوکیشن بھیجنے کا حکم دیا گیا تھا۔
لیاقت علی ملک نے مزید بتایا کہ دشمن کے ایجنٹ چھوٹے چھوٹے ویڈیو کلپس کے ذریعے حساس معلومات سرحد پار پہنچا رہے تھے تاکہ تخریب کاری کی منصوبہ بندی کی جا سکے۔
انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ’آزاد کشمیر کی سرزمین کا تقدس کسی صورت پامال نہیں ہونے دیں گے اور دشمن کے ہر مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیا جائے گا‘۔ پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے نیٹ ورک کے دیگر کارندوں کی تلاش شروع کر دی ہے۔
آئی جی پولیس کے مطابق، گرفتار ملزم سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی ہینڈلرز کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھا اور فوجی تنصیبات کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کو بھی نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
لیاقت علی ملک نے انکشاف کیا کہ دشمن عناصر منظم طریقے سے اہم مقامات کی نشاندہی کر کے ریاستی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم پولیس کی مستعدی نے ممکنہ خطرہ ٹال دیا ہے۔
واضح رہے کہ یہ گرفتاری سیکیورٹی اداروں کے اس کامیاب آپریشن کے تسلسل میں ہے جس کے دوران 3 روز قبل پنجاب کے اضلاع نارووال، بہاولپور اور آزاد کشمیر کے علاقے راولاکوٹ سے 3 دیگر جاسوسوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔
آئی جی آزاد کشمیر نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ خطے کے امن و استحکام کے لیے سیکیورٹی ادارے ہر ممکن اقدام کریں گے اور آزاد کشمیر کی سرزمین کا تقدس پامال کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔
آزاد کشمیر میں بھارتی ایجنٹوں کی گرفتاری لائن آف کنٹرول پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بھارت کی جانب سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کا تسلسل ہے۔ مساجد اور اسکولوں جیسی سافٹ ٹارگٹس کی ریکی ظاہر کرتی ہے کہ دشمن بڑے پیمانے پر جانی نقصان یا خوف و ہراس پھیلانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ راولاکوٹ پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کی بروقت کارروائی نے ایک ممکنہ بڑے حادثے کو ٹال دیا ہے۔