نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ افغانستان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔
کابل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کسی کو بھی اپنی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں خطے میں ترقی، خوشحالی اور امن کیلئے مل کر کام کرنا ہو گا ۔
اسحاق ڈار نے یہ بھی اعلان کیا کہ پاکستان کا ٹرانزٹ ٹریک اینڈ ٹریڈ سسٹم رواں سال 30 جون تک فعال ہو جائے گا، جس کا مقصد افغانستان کے ساتھ تجارت کو ہموار کرنا اور فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین نے تصفیہ طلب مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ طورخم بارڈر پر آئی ٹی سسٹم کو جلد فعال کر دیا جائے گا تاکہ ہموار تجارتی کارروائیوں میں مدد ملے۔ ان کا کہنا ہےکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کو مضبوط بنانا خطے کے لیے بہت ضروری ہے۔
افغان مہاجرین کی وطن واپسی عزت اور وقار کے ساتھ ہوگی۔اسحاق ڈار نے کئی دہائیوں سے افغان شہریوں کی میزبانی میں پاکستان کی جانب سے دکھائی گئی فراخدلی کا بھی اعتراف کیا۔قبل ازیں پاکستان اور افغانستان نے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے دوران باہمی فائدہ مند تعلقات کو فروغ دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا تھا ۔
پاکستانی فریق کی قیادت نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور افغان فریق کی قیادت قائم مقام وزیر خارجہ عامر خان متقی نے کی۔ دونوں فریقوں نے اعلیٰ سطح کی مصروفیات کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر اتفاق کیا۔
بات چیت میں دو طرفہ تعلقات سے متعلق موضوعات کی ایک جامع رینج شامل تھی، جس میں باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں بشمول سکیورٹی، تجارت، ٹرانزٹ، کنیکٹیویٹی اور عوام سے عوام کے رابطوں میں تعاون بڑھانے کیلئے حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔