سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ، فی تولہ قیمت کیا رہی ؟

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ، فی تولہ قیمت کیا رہی ؟

ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبروں کے بعد عالمی اور مقامی گولڈ مارکیٹس میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک روز کے وقفے کے بعد سونے کی قیمت نے لمبی چھلانگ لگاتے ہوئے نئے ریکارڈ قائم کر دیے ہیں، جس کے باعث  خریداروں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔

آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں 24 قیراط فی تولہ سونے کی قیمت میں 4600 روپے کا بڑا اضافہ ہوا، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 77 ہزار 762 روپے تک پہنچ گئی۔

اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 3943 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 9 ہزار 603 روپے ریکارڈ کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں :سونے کی قیمت میں ایک روز کمی کے بعد آج پھر بڑا اضافہ

سونے کے بعد چاندی بھی پیچھے نہ رہی ، جس کی قیمت میں بھی نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی ہے اور فی تولہ چاندی 236 روپے مہنگی ہوکر 8270 روپے تک جا پہنچی، جبکہ عالمی مارکیٹ میں بھی قیمتی دھاتوں کی قدر میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

عالمی مارکیٹ میں اضافہ 

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت 46 ڈالر اضافے کے بعد 4554 ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی ، عالمی مالیاتی ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، عالمی معاشی غیر یقینی کیفیت اور سرمایہ کاروں کی محفوظ سرمایہ کاری کی جانب بڑھتی دلچسپی سونے کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ ڈیل کی خبروں کے باعث بھی عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا تھا۔

بین الاقوامی نرخوں کے مطابق فی گرام سونے کی قیمت تقریباً 146.70 امریکی ڈالر ریکارڈ کی گئی، جس نے عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ ایک بار پھر گولڈ مارکیٹ کی جانب کردی ہے۔

واضح رہے کہ دنیا بھرمیں سونے کے ذخائر کے حوالے سے امریکا پہلے نمبر پرہے جبکہ ایشیا میں یہ اعزاز چین کے پاس ہے،بھارت عالمی سطح پر آٹھویں اورایشیا میں دوسرے نمبر پر ہے، پاکستان عالمی فہرست میں 49 ویں نمبر ہے۔

یہ بھی پڑھیں  : سونے اور چاندی کی قیمتوں نے سارے عالمی ریکارڈ توڑ دیئے

رپورٹ کے مطابق امریکا، جرمنی اور اٹلی سونے کے ذخائر کے حوالے سرفہرست ہیں، ایشیاء میں چین اور بھارت سونے کے سب سے زیادہ ذخائر رکھتے ہیں۔

editor

Related Articles