’ایچ ای سی‘ کا اسکالرشپ پر بیرون ملک جانے والوں سے متعلق بڑا اعلان

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) سے اسکالرشپ حاصل کے بیرون ملک جانے اور پھر واپس ملک نہ آنے والے پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے متعدد فیکلٹی ممبران کو متعلقہ معاہدے کی خلاف ورزی کی وجہ سے رقم واپس کرنے پر مجبور کرنے کے لیے سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ایچ ای سی نے ماضی میں ایسے اسکالرز کو بلیک لسٹ کیا تھا لیکن وہ اسکالرشپ کی رقم ادا کرنے یا وطن واپس آنے میں ناکام رہے۔ بلیک لسٹ کیے گئے زیادہ تر اسکالرز کا تعلق پنجاب کی سرکاری جامعات سے ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب یونیورسٹی نے 12 اساتذہ سے لاکھوں روپے وصول کرنے کے لیے ایف آئی اے کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے جو اسکالرشپ پر بیرون ملک جانے کے بعد واپس نہیں آئے۔

یونیورسٹی انتظامیہ وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ سے مفرور اساتذہ کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کرنے کی بھی درخواست کرے گی۔

میڈیا کے مطابق اساتذہ نے ایچ ای سی کے فارن فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام کے ذریعے لاکھوں روپے کے اسکالرشپس حاصل کیے تھے لیکن وہ وطن واپس نہیں آئے۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنی ڈگریاں مکمل کر لی ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو ایسا کرنے میں ناکام رہے لیکن یونیورسٹیوں کو رقم ادا نہیں کی۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ایک سینیئر عہدیدار نے بتایا کہ کمیشن نے اس سے قبل بلیک لسٹ کیے گئے اسکالرز کے نام جاری کیے تھے جنہوں نے گزشتہ 18 سالوں کے دوران اسکالرشپ حاصل کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق اس بات کی بھی تحقیقات کی جائیں گی کہ آیا ایسے اسکالرز کو میرٹ پر منتخب کیا گیا تھا کیونکہ ان میں سے کچھ نے اسکالرشپ کی مدت کے دوران بیرون ملک رہتے ہوئے مبینہ طور پر تنخواہ بھی حاصل کی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق فنڈز کی کمی کی وجہ سے مقامی یونیورسٹیوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ وہ بلیک لسٹ کیے گئے اسکالرز سے اسکالرشپ کی رقم واپس کرنے کے مطالبے کے لیے کارروائی شروع کریں۔

واضح رہے کہ پروفیسرز اور اسکالرز ایک دستاویز پر دستخط کرتے ہیں جس میں بیرون ملک تعلیم مکمل کرنے کے بعد 5 سال تک اپنی یونیورسٹیوں میں پڑھانے کا عہد کیا جاتا ہے، لیکن وہ مبینہ طور پر بیرونِ ممالک میں ملازمت شروع کرتے ہیں۔

ترجمان پنجاب یونیورسٹی کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کے 56 اساتذہ نے بیرون ملک پی ایچ ڈی کرنے کے لیے کروڑوں روپے کی گرانٹ حاصل کی تھی جن میں سے 12 نے ادارے میں دوبارہ شمولیت اختیار نہیں کی۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نادہندگان اساتذہ میں سے 7 نے ایچ ای سی اسکالرشپس اور 5 پی یو اوورسیز اسکالرشپس حاصل کی ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اپنی ڈیوٹی پر واپس نہ آنے والے اساتذہ کو معاہدے کے مطابق یونیورسٹی کو لاکھوں روپے ادا کرنے ہوں گے۔ یونیورسٹی نے 12 اساتذہ کو ملازمت سے برخاست کر دیا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *