وینزویلا میں دو شدید زلزلوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر1430تک پہنچ گئی ہے جبکہ ہزاروں افراد زخمی اور لاکھوں بنیادی ضروریات سے محروم ہو گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بدھ کے روز آنے والے 7.2 اور 7.5شدت کے زلزلوں نے ملک کے شمالی ساحلی علاقوں کو بری طرح متاثر کیا، جس کے باعث عمارتیں منہدم، انفراسٹرکچر تباہ اور وسیع پیمانے پر انسانی بحران پیدا ہو گیا۔
اب تک3 ہزار سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ 50 ہزار سے زیادہ افراد کے لاپتا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے،اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے مطابق مجموعی طور پر65لاکھ سے زائد افراد اس قدرتی آفت سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور نے بتایا ہے کہ کم از کم سترہ ممالک کی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں اس کے ساتھ ہی بین الاقوامی سطح پر امدادی سامان کی ترسیل بھی جاری ہے۔
امریکی حکام کے مطابق امریکا نے بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لیتے ہوئے فوجی طیاروں کے ذریعے امدادی سامان اور250 سے زائد اہلکار وینزویلا روانہ کیے ہیں، سائمن بولیوار بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ایک رن وے کو بحال کر دیا گیا ہے جہاں امدادی پروازیں لینڈ کر رہی ہیں جبکہ ایک امریکی بحری جہاز بھی ساحلی علاقے کے قریب پہنچ چکا ہے۔
سب سے زیادہ متاثرہ علاقے لا گوائیرا میں امدادی کارکنوں نے زلزلے کے تقریباً32 گھنٹے بعد ملبے سے ایک نومولود بچے کو زندہ نکال لیا، جسے امدادی ٹیموں کی اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں لاکھوں افراد کو فوری طور پر پناہ گاہوں، صاف پانی، طبی سہولیات، حفظان صحت کے سامان اور دیگر بنیادی ضروریات کی اشد ضرورت ہے جبکہ ابتدائی اندازوں کے مطابق مجموعی مالی نقصان چھ اعشاریہ سات ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
دوسری جانب متاثرہ شہریوں نے امدادی کارروائیوں میں تاخیر پر شدید تشویش اور ناراضی کا اظہار کیا ہے، جبکہ بعض افراد کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے پیاروں کو خود ملبے سے نکالنا پڑاامریکی حمایت یافتہ عبوری قیادت نے کہا ہے کہ وینزویلا اس مشکل گھڑی میں تنہا نہیں، بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر امدادی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں گی۔