حکومت نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے تحت مستحق خواتین کو مالی امداد کی ادائیگی کے نظام کو مزید شفاف محفوظ اور آسان بنانے کے لیے بینظیر سم اور ڈیجیٹل والٹ کا نظام متعارف کرا دیا ہے اس سلسلے میں اہل مستحقین کے لیے بینظیر سم کے اجرا اور فعال کرانے کی آج 30 جون آخری تاریخ ہے۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مطابق یکم جولائی 2026 سے کفالت پروگرام کی مالی امداد مرحلہ وار روایتی ادائیگی کے بجائے ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے فراہم کی جائے گی جس کا مقصد مستحق خواتین کو براہِ راست اور بلا کٹوتی ادائیگی یقینی بنانا ہے۔
حکام کے مطابق وہ خواتین جنہوں نے ابھی تک بینظیر سم حاصل نہیں کی یا اسے بائیومیٹرک تصدیق کے ذریعے فعال نہیں کرایا انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے قریبی بی آئی ایس پی تحصیل دفتر سے رابطہ کریں۔ رجسٹریشن کے لیے اصل شناختی کارڈ اور زیر استعمال موبائل فون ساتھ لانا ضروری ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل والٹ نظام کے ذریعے مستحقین کو اپنی مالی امداد براہِ راست موبائل والٹ میں موصول ہوگی جس سے غیر قانونی کٹوتیوں ایجنٹوں پر انحصار اور طویل قطاروں جیسے مسائل کا خاتمہ ہوگا۔ ادائیگیوں کا نظام مزید محفوظ شفاف اور تیز رفتار بنایا جا رہا ہے تاکہ خواتین بااختیار انداز میں اپنی امدادی رقم وصول کر سکیں۔
بی آئی ایس پی حکام نے واضح کیا ہے کہ بینظیر سم کا اجرا اور رجسٹریشن مکمل طور پر مفت ہے۔ اگر کوئی شخص سم کے اجرا یا رجسٹریشن کے نام پر رقم طلب کرے تو اس کی شکایت فوری طور پر بی آئی ایس پی ہیلپ لائن یا متعلقہ دفتر میں درج کرائی جائے۔
یاد رہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت اس وقت مستحق خاندانوں کو کفالت پروگرام کے تحت 14 ہزار 500 روپے کی سہ ماہی مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور نئے مالی سال سے اس میں اضافہ بھی کیا گیا ہے حکومت نے تمام ادائیگیوں کو بتدریج ڈیجیٹل والٹ نظام سے منسلک کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مستحقین کو شفاف اور بروقت سہولت میسر آ سکے۔