یوفون کی پیرنٹ کمپنی پاکستان ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ (پی ٹی ایم ایل) کی جانب سے ٹیلی نار پاکستان کے ساتھ انضمام مکمل ہونے کے بعد ملک بھر میں موبائل پیکجز اور ٹیرف میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق انضمام کے بعد پی ٹی ایم ایل سبسکرائبرز کے لحاظ سے پاکستان کی سب سے بڑی موبائل کمپنی بن جائے گی، جس کے بعد کمپنی پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے موبائل ٹیرف میں اضافے کی منظوری حاصل کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ریگولیٹری اتھارٹی مارکیٹ کی سب سے بڑی کمپنی کو ٹیرف بڑھانے کی اجازت دیتی ہے تو دیگر ٹیلی کام آپریٹرز بھی اسی طرز پر اپنے موبائل پیکجز اور کال و ڈیٹا ٹیرف میں اضافے کی درخواستیں دے سکتے ہیں۔
ماضی میں بھی 2016 میں موبی لنک اور وارد کے انضمام کے بعد اسی نوعیت کی صورتحال سامنے آئی تھی، جب نئی کمپنی جاز نے مختلف موبائل پیکجز اور ٹیرف میں تبدیلیاں کی تھیں۔ اس وقت کمپنی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پاکستانی روپے کی قدر میں کمی اور ٹیلی کام شعبے پر بھاری ٹیکسوں کے باعث قیمتوں میں ردوبدل ناگزیر تھا۔
پی ٹی ایم ایل کے ڈائریکٹر کارپوریٹ کمیونیکیشن سعد وڑائچ نے اس حوالے سے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی کی اولین ترجیح صارفین کو بلا تعطل اور معیاری سروس فراہم کرنا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل کی کمرشل اور برانڈ حکمتِ عملی پر کام جاری ہے، جس سے مناسب وقت پر آگاہ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے اسلام آباد ہائی کورٹ کی منظوری کے بعد پی ٹی ایم ایل اور ٹیلی نار پاکستان کا انضمام باضابطہ طور پر مکمل ہو چکا ہے۔ انضمام کے بعد ٹیلی نار پاکستان ایک علیحدہ قانونی ادارے کی حیثیت ختم کر چکا ہے اور اس کے تمام اثاثے، واجبات، حقوق اور ذمہ داریاں پی ٹی ایم ایل کو منتقل ہو گئی ہیں۔
تاہم ذرائع کے مطابق فی الحال موبائل پیکجز یا ٹیرف میں اضافے کی نہ تو کوئی باضابطہ درخواست پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو دی گئی ہے اور نہ ہی کسی اضافے کی منظوری دی گئی ہے۔ البتہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے مہینوں میں نئی کمپنی ٹیرف میں اضافے کے لیے ریگولیٹر سے رجوع کر سکتی ہے۔