پنجاب حکومت نے توانائی کے بچاؤ کے لیے سرکاری اداروں کے دفتری اوقاتِ کار اور تعطیلات میں کی گئی تبدیلیوں کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے صوبے بھر میں سرکاری ملازمین کے سابقہ دفتری اوقاتِ کار بحال کر دیے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سرکاری ملازمین کے لیے نافذ کی گئی جمعہ کی اضافی تعطیل بھی ختم کر دی گئی ہے۔
حکومتی فیصلے کے بعد پنجاب کے تمام سرکاری دفاتر اب معمول کے مطابق ہفتے میں پانچ روز اپنے سابقہ اوقاتِ کار کے تحت کام کریں گے، جبکہ سرکاری امور اور عوامی خدمات بھی پہلے کی طرح جاری رہیں گی۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاقی حکومت بھی حالیہ ہفتوں میں ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے تحت نافذ بعض اقدامات میں نرمی کر چکی ہے۔ تاہم پنجاب حکومت نے واضح کیا ہے کہ توانائی کے تحفظ کے لیے مارکیٹوں اور تجارتی مراکز کے اوقاتِ کار سے متعلق نافذ کردہ شیڈول بدستور برقرار رہے گا اور اس میں فی الحال کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
توانائی بچاؤ کی مہم کے تحت رواں برس وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے کاروباری اور دفتری سرگرمیوں کے اوقات میں تبدیلیاں متعارف کرائی تھیں تاکہ بجلی اور درآمدی ایندھن کی کھپت میں کمی لائی جا سکے۔ انہی اقدامات کے تحت بعض سرکاری اداروں کے اوقاتِ کار تبدیل کیے گئے تھے جبکہ متعدد دفاتر میں جمعہ کو اضافی تعطیل بھی دی گئی تھی۔
دوسری جانب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی توانائی بچاؤ پالیسی کے تحت کاروباری مراکز کے اوقاتِ کار پر پابندیاں نافذ کی گئی تھیں۔ ابتدائی طور پر مارکیٹوں اور شاپنگ مالز کو رات 8 بجے بند کرنے کی ہدایت دی گئی، بعد ازاں گرمیوں کے موسم اور کاروباری ضروریات کے پیش نظر بعض اوقات میں نرمی کی گئی۔
تجارتی تنظیمیں ان پابندیوں پر مسلسل تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہیں اور ان کا مؤقف رہا ہے کہ جلد مارکیٹیں بند کرنے سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں، خاص طور پر گرمیوں میں جب زیادہ خریدار شام کے اوقات میں خریداری کے لیے نکلتے ہیں۔ اس کے باوجود حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مارکیٹوں کے اوقاتِ کار سے متعلق توانائی بچاؤ کا شیڈول تاحال برقرار رہے گا تاکہ بجلی اور ایندھن کی بچت کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔