حکومت نے پرانے ٹیکسوں کو نئے نام دیکر عوام پر مزید معاشی بوجھ ڈال دیا : مفتاح اسماعیل

حکومت نے پرانے ٹیکسوں کو نئے نام دیکر عوام پر مزید معاشی بوجھ ڈال دیا : مفتاح اسماعیل

عوام پاکستان پارٹی (اے پی پی) کے سیکرٹری جنرل اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ حکومت نے پرانے ٹیکسوں کو نئے نام دیکر عوام پر مزید معاشی بوجھ ڈال دیا ہے۔

کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے، ملک تقریباً 100 ارب ڈالر کے قرض تلے دب چکا ہے اور ہر سال 20 ارب ڈالر قرض کی ادائیگی کے لیے ادا کرنا پڑتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:موجودہ حکومت معیشت کی بہتری کے لیے کوئی پالیسی نہیں لائی، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا دعویٰ

انہوں نے کہا کہ حکومت اب مختلف ٹیکسوں کو نئے ناموں سے متعارف کروا رہی ہے، جیسے کاربن ٹیکس ،جس کے تحت موٹر سائیکل سواروں پر 100 سے 120 روپے تک کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کئی ایسے ٹیکس ہیں جو نہ صرف غیر ضروری ہیں بلکہ ان سے ملکی معیشت کو نقصان ہو رہا ہے۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی شرائط پر عمل درآمد اب مجبوری بن چکی ہے۔

انہوں نے ملک کے ٹیکس نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ غریب عوام کو ہر چھوٹی چھوٹی چیز پر ٹیکس دینا پڑ رہا ہے جبکہ اربوں کی جائیدادیں رکھنے والے اشرافیہ ٹیکس سے بچ نکلتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کا 60 فیصد بجٹ صوبوں کو منتقل ہوتا ہے لیکن وہ مناسب انداز میں ٹیکس جمع نہیں کرتے، جس کا براہ راست نقصان وفاقی خزانے کو ہوتا ہے ۔ تعلیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں 40 فیصد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔

سندھ میں دوسری سے 5ویں کلاس کے بچے بنیادی ریاضی کرنے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب کو ایک ملک تصور کیا جائے تو یہ دنیا کا 13واں بڑا ملک ہوتا، بدقسمتی سے ہم تعلیم، معیشت اور نظم و نسق میں پیچھے رہ گئے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:جے یو آئی نے خیبر پختونخوا حکومت کی کرپشن کے خلاف عوامی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے

مفتاح اسماعیل کا کہنا مزید تھا کہ جس طرح بھارت کے خلاف جنگ میں ہمیں اللہ نے بڑی کامیابی دی، اب ہمیں معیشت، تعلیم اور انصاف کے لیے بھی ویسی ہی سنجیدہ جدوجہد کرنا ہو گی۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *