امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرتی نظر آ رہی ہے جہاں امریکی میڈیا نے ممکنہ فوجی کارروائی کا عندیہ دے دیا ہے۔ دی وال سٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ چند دنوں میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی منظوری دے سکتے ہیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی فوج ممکنہ آپریشن کیلئے مکمل طور پر تیار ہے جبکہ واشنگٹن میں اس حوالے سے مشاورت جاری ہے تاہم اس کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ کسی ممکنہ تصفیے کیلئے سفارتی راستہ بھی کھلا رکھے ہوئے ہیں اور تمام آپشنز زیر غور ہیں۔
امریکی اخبار کے مطابق موجودہ صورتحال میں امریکا ایک دوہری حکمت عملی پر عمل پیرا ہے جس میں ایک جانب دباؤ بڑھانے کیلئے عسکری تیاری جاری ہے تو دوسری جانب مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔
دوسری طرف ایرانی میڈیا نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکی فوج نے حالیہ کارروائی میں دو سویلین کشتیوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں پانچ شہری جاں بحق ہو گئے۔ ایران کی جانب سے اس واقعے کو اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا عندیہ دیا گیا ہے۔
اگر امریکا کی جانب سے فوجی کارروائی کی منظوری دی جاتی ہے تو اس کے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں خصوصاً توانائی کی ترسیل عالمی معیشت اور مشرقِ وسطیٰ کے امن پر اس کے گہرے اثرات پڑنے کا خدشہ ہے تاہم حتمی فیصلہ آنے والے دنوں میں صورتحال کو واضح کرے گا۔