برطانیہ نے پناہ گزینوں اور تارکین وطن کی عمر کے تعین کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد خود کو کم عمر ظاہر کرنے والے بالغ افراد کی نشاندہی کرنا ہے۔
برطانوی وزارت داخلہ کے مطابق آئندہ سال ایک نئے اے آئی سسٹم کا آزمائشی آغاز کیا جائے گا۔ یہ نظام سرحدی مقامات پر لی گئی تصاویر کا تجزیہ کرکے کسی فرد کی ممکنہ عمر کا اندازہ لگائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ بعض بالغ تارکین وطن پناہ کے نظام سے اضافی سہولیات حاصل کرنے کے لیے خود کو نابالغ ظاہر کرتے ہیں، جس کے باعث عمر کے درست تعین کی ضرورت پیش آتی ہے۔
برطانیہ میں بغیر سرپرست آنے والے کم عمر پناہ گزین بچوں کو مقامی کونسلز کی جانب سے خصوصی رہائش، نگہداشت اور قانونی تحفظ فراہم کیا جاتا ہے، جس سے ان کی پناہ کی درخواستوں کے عمل میں بھی آسانی پیدا ہوتی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جون 2025 تک کے ایک سال میں ایک لاکھ 11 ہزار سے زائد افراد نے برطانیہ میں پناہ کی درخواست دی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہے۔
وزارت داخلہ کے مطابق مارچ 2026 تک کے ایک سال میں خود کو کم عمر ظاہر کرنے والے 6 ہزار 400 سے زائد افراد کی عمر کی جانچ پڑتال کی گئی، جن میں سے 43 فیصد درحقیقت بالغ ثابت ہوئے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے اس منصوبے پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کے مطابق عمر کے تعین کے لیے غیر آزمودہ اے آئی ٹیکنالوجی پر انحصار بعض کم عمر پناہ گزینوں کے حقوق کو متاثر کر سکتا ہے اور غلط نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
برطانوی حکام کا مؤقف ہے کہ اس نظام کا مقصد پناہ کے عمل کو مزید شفاف اور مؤثر بنانا ہے، جبکہ ناقدین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کسی بھی نئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے قبل اس کی درستگی اور قابلِ اعتماد ہونے کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔