پاکستان کے پہلے انسانی خلائی مشن کے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) میں 1.29 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق ’’پاکستان مینڈ اسپیس مشن‘‘ کی مجموعی لاگت 2.19 ارب روپے ہے۔ منصوبے پر رواں مالی سال کے اختتام تک تقریباً 90 کروڑ روپے خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جبکہ باقی فنڈز آئندہ مالی سال میں فراہم کیے جائیں گے۔
یہ منصوبہ پاکستان کے خلائی ادارے سپارکو کے تحت جاری وسیع خلائی پروگرام کا حصہ ہے، جس میں سیٹلائٹ ٹیکنالوجی، چاند کی تحقیق، گہرے خلاء کے مشاہدے اور خلائی انفراسٹرکچر کی ترقی جیسے منصوبے بھی شامل ہیں۔
پاکستان کے انسانی خلائی پروگرام کو فروری 2025 میں اس وقت اہم پیش رفت حاصل ہوئی تھی جب پاکستان اور چین کے درمیان خلا بازوں کے تعاون کا ایک معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کے تحت پاکستانی خلا بازوں کو چین کے تیان گونگ خلائی اسٹیشن کے مستقبل کے مشنز کے لیے منتخب اور تربیت دی جانی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق طبی، نفسیاتی اور صلاحیتی جانچ کے بعد دو پاکستانی امیدواروں کو شارٹ لسٹ کیا جا چکا ہے۔ یہ امیدوار اب جدید خلا باز تربیتی پروگرام میں حصہ لیں گے۔
تربیت مکمل ہونے کے بعد ان میں سے ایک امیدوار کو چین کے خلائی اسٹیشن کے مشن میں شامل کیے جانے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں وہ خلا میں جانے والے پہلے پاکستانی شہری بن سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان کی خلائی صلاحیتوں میں اضافے اور بین الاقوامی سطح پر سائنسی ترقی کے میدان میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔