ایک نئی پالیسی تجویز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان 2030 تک بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے ذریعے تقریباً 9.7 ٹریلین روپے (34.9 ارب ڈالر) کی معاشی قدر پیدا کر سکتا ہے۔
میڈیاایسرپورٹ کے مطابق اس ممکنہ ترقی کا زیادہ تر انحصار چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں ایس ایم ایز(SMEs) پر ہے، خصوصاً مینوفیکچرنگ، ریٹیل، صحت، اور لاجسٹکس جیسے شعبوں میں، جہاں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
اس خلا کو پُر کرنے کے لیے تجویز میں نیشنل اے آئی اڈاپشن فنڈ قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جس کا حجم تقریباً 3 ارب روپے ہوگا۔ یہ فنڈ ایس ایم ایز کے لیے میچنگ گرانٹ پروگرام کے طور پر کام کرے گا۔
میڈیارپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر اے آئی اپنانے کے لیے مالی معاونت نہ دی گئی تو یہ معاشی فائدہ صرف ایک تصور ہی رہ جائے گا۔تجویز کے مطابق اہل ایس ایم ایز وہ ہوں گے جو رجسٹرڈ، ٹیکس ادا کرنے والے اور 500 سے کم ملازمین رکھتے ہوں۔ انہیں حکومت کی جانب سے اے آئی کے نفاذ کے اخراجات کا 40 فیصد تک حصہ دیا جائے گا، جبکہ فی کمپنی زیادہ سے زیادہ 50 لاکھ روپے کی حد مقرر ہوگی۔
اس منصوبے پر عمل درآمد صرف پی ایس ای بی (PSEB )سے منظور شدہ اے آئی کمپنیوں یا تصدیق شدہ ٹیکنالوجی پارٹنرز کے ذریعے کیا جائے گا۔ قابلِ قبول اخراجات میں اے آئی سافٹ ویئر، سسٹم انٹیگریشن، تربیت اور ضروری ہارڈویئر شامل ہوں گے۔
شفافیت یقینی بنانے کے لیے تمام دعوؤں کی تھرڈ پارٹی آڈٹ اور اچانک معائنوں کے ذریعے جانچ کی جائے گی، جبکہ کمپنیوں کو اپنی بنیادی کارکردگی اور 12 ماہ کی پیش رفت رپورٹ بھی جمع کرانا ہوگی، جس میں لاگت میں کمی، آمدنی میں اضافہ، کارکردگی اور کسٹمر سروس میں بہتری جیسے عوامل شامل ہوں گے۔
فنڈ کی تقسیم کے تحت مینوفیکچرنگ کو 30 فیصد، صحت کے شعبے کو 20 فیصد، مالیاتی خدمات کو 20 فیصد، زرعی ٹیکنالوجی کو 15 فیصد اور ریٹیل و لاجسٹکس کو 15 فیصد حصہ دیا جائے گا۔
تجویز میں ایک آزاد ٹیکنیکل کمیٹی کے ذریعے نگرانی کا نظام بھی پیش کیا گیا ہے، جس میں وزارتِ آئی ٹی، اسٹیٹ بینک، P@SHA اور دیگر ماہرین شامل ہوں گے۔
ابتدائی مرحلے میں تقریباً 600 ایس ایم ایز کو اے آئی اپنانے کے لیے معاونت دی جائے گی، جسے پائلٹ پروگرام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تاکہ معیشت میں حقیقی سطح پر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھایا جا سکے۔