ایران نے مغربی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر بے بنیاد الزامات کا سلسلہ جاری رہا تو وہ ایٹمی عدم پھیلاو (این پی ٹی ) سے الگ ہوجائے گا۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب سعید ایراوانی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خط جمع کرایا ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی بے بنیاد الزامات لگارہے ہیں۔
خط کے مطابق اگر یہ تینوں ممالک ایران پر پابندیاں بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف رہے تو ایران ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی سے دستبردار ہوجائے گا۔
خط میں کہا گیا ہے کہ مغربی اقدامات کا متناسب جواب دیا جائے گا اور آرٹیکل دس کے تحت این پی ٹی سے علیحدگی اختیار کرنے کا عمل شروع کردیا جائے گا۔
برطانوی وزیراعظم سَر کیئر اسٹارمر نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے لندن روانگی سے قبل گفتگو کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن اور تحمل کی ضرورت پر زور دیا۔
برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ ہم ایران کے جوہری پروگرام پر دیرینہ خدشات رکھتے ہیں اور اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہیں لیکن صورتحال کو فوری طور پر قابو میں لانا ضروری ہے، خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خطرہ ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران اور امریکا کے جوہری مذاکرت کے چھٹے دور کو منسوخ کردیا گیا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق آج اتوار کو امریکا اور ایرن کے درمیان جوہری مذاکرات منعقد نہیں ہوں گے۔
عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کے چھٹے دور کی منسوخی کی تصدیق کی ہے۔